KK dairy farm

KK dairy farm We provide fresh milk as we keep our cows healthy. Rizwan Ahmed Kaimkhani
Adnan Ahmed Kaimkhani

Our cows are grazed naturally and we dont use any milk boosters in our cows,
our cows are vaccined as per schedule.

اسلام علیکم۔۔۔۔۔ بازاری کیمیمل کھاد کا متبادل نامیاتی کھاد اور اس کی تیاری۔ کسان کا اس وقت کا سب سے بڑا خرچ کھاد کا بن چ...
16/02/2025

اسلام علیکم۔۔۔۔۔

بازاری کیمیمل کھاد کا متبادل
نامیاتی کھاد اور اس کی تیاری۔

کسان کا اس وقت کا سب سے بڑا خرچ کھاد کا بن چکا ہے۔ اوسط ایک ایکڑ میں 50 ہزار سے زیادہ کی کھاد استعمال کرلی جاتی ہے۔ جبکہ کسان کو فی ایکڑ کسی اور مد میں اتنا بڑا خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ اس بڑے خرچ سے کسان مکمل طور پر گلو خلاصی حاصل کرسکتا ہے۔

نامیاتی کھاد دنیا کی بہترین کھاد ہے۔ اور جانوروں کا گوبر اس کھاد کی تیادی کے لئے بہترین بنیادی سورس ہے۔

ہمارے کسان اتنے سادہ ہوچکے ہیں کہ گھر میں پیدا ہونے والا نامیاتی مواد باہر پھینک کر بازار سے ہزاروں روپے کے عوض مہنگی کھاد خرید خرید کر کھیتوں میں ڈالتے ہیں اور مقروض ہوتے جارہے ہیں اور کچھ تو دیوالیہ ہوچکے ہیں.

گوبر سے نامیاتی کھاد بنانے کا طریقہ بہت ہی آسان ہے۔

آپ کو اپنے زرعی رقبہ میں یا جانوروں کے باڑے کے پاس ایک قدرے چوڑا کھالہ نما تالاب چاہئے۔ اس تلاب کو بائیو فرمینٹر کہتے ہیں۔ اس کی لمبائی اس کی چوڑائی سے 4 سے 5 گنا زیادہ ہونی چاہئے۔ ٹیکنیکل زبان میں اس ڈیزائن کو پلگ فلو بیسڈ فرمینٹر کہتے ہیں۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ روازنہ کی فیڈ اور نکاسی کی وجہ سے خود کار انداز میں صاف ہوتا رہتا ہے۔
کافی سال بعد جب اس میں ریت مٹی جمع ہوجائے تو اس کو آسانی سے صاف کیا جاسکتا ہے جیسے نہروں کی بھل صفائی کی جاتی ہے۔

پانی کی واٹر پروفنگ کے لئے آپ اس میں پلاسٹک کی شیٹ جو چھتوں پر ڈالتے ہیں وہ اس کی تہہ میں بچھا لیں یہ ایک طرح سے لینٹر جیسی واٹر پروفنگ دے گا اور ابتدائی خرچ بلکل کم کردے گا۔
پاکستان میں 25 فٹ چوڑی شیٹ بنتی ہیں اور مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں۔
اس فرمینٹر کے ایک سرے پر آپ نے ایک مکسنگ ھوری بنانی ہے جس میں ہاتھ سے چلانے والی مدھانی لگا سکتے ہیں اور اس ھود سے 5 انچ کا پلاسٹک پائپ فرمینٹر میں رکھ دیں، جس کا ناکہ آپ ھودی کے اندر لگائیں گے جیسے دانے رکھنے والے بھڑولے کا ہوتا ہے، مکسنگ پراسس مکمل ہونے پر اس ناکے کو اوپر اٹھا کر حل شدہ محلول فرمینٹر میں داخل کیا جائے گا۔ ایک وقت میں ایک ہاتھ والی ریڑھی کے برابر گوبر کو پانی میں مکس کرنے کے لئے آدھے ڈرم کے سائز جتنی مکسنگ ہودی کا سائز مناسب ہے۔

گوبر کو پانی میں 1:1 کے تناسب سے مکس کر کے ایک کینال ٹائپ پانڈ میں ڈال دوایک بار بھرنے کے بعد روزانہ دستیاب مقدار میں 1:1 کے حساب سے ڈالتے جاؤ۔ ۔۔۔۔ چند ہفتوں میں بہترین کھاد تیار ہوجائے گی۔اور جتنی مقدار روزانہ ڈال رہے ہیں. اتنی ہی مقدار تیار کھاد کی صورت کینال کے دوسرے سرے سے نکلنے لگے گی۔ جس کو آبپاشی والے پانی کے ساتھ مکس کرکے رقبہ کھیت میں ڈالتے جاؤ۔
روزانہ کی بنیاد پر جو نامیاتی کھاد کی اضافی مقدار جو تیار ہورہی ہے اس کو خشک کرنے یا ایک اور تلاب میں جمع کرتے جاؤ تاکہ حسب ضرورت استمال کی جاسکے۔

مزید معلومات کے لئے

نامیاتی کھاد ٹیکنالوجی پاکستان
تحقیق و ترقی
خالد تارڑ
03134213130۔
Copy:

Too Much Fertilizer ≠ More Yields: The Law of Diminishing ReturnsMany farmers believe that applying more fertilizer will...
15/02/2025

Too Much Fertilizer ≠ More Yields: The Law of Diminishing Returns

Many farmers believe that applying more fertilizer will automatically lead to higher yields. However, this is a costly misconception. The Law of Diminishing Returns states that beyond a certain point, adding more of a single input—such as fertilizer—results in progressively smaller increases in yield, and in some cases, can even reduce productivity.

Excessive fertilizer application can lead to nutrient imbalances, soil degradation, and toxicity, harming both crops and the environment. For instance, too much nitrogen can cause excessive vegetative growth at the expense of grain or fruit production, while excess phosphorus can block the uptake of essential micronutrients like zinc.

Instead of blindly increasing fertilizer use, farmers should focus on precision application—using the right type, at the right time, in the right amount. Soil testing is key to determining actual nutrient needs, ensuring efficient fertilizer use while maximizing yields and protecting soil health.

Remember, more is not always better—better is better! Apply fertilizers wisely to achieve optimal results and sustainable farming success.
Copy:

13/08/2024

بھینس کی غذائی ضروریات، اہمیت اور ان کی فراہمی

ڈیری سیکٹر میں کسی بھی سیٹ اپ میں چاہے آپ گھریلو سطح پر جانور پال رہے ہوں، بریڈنگ کر رہے ہوں یا کمرشل ڈیری فارمننگ میں ملوث ہوں روزمرہ کے اخراجات میں جانوروں کی خوراک سب سے اہم پہلو ہے اور سب سے زیادہ اخراجات بھی اسی پر آتے ہیں اسلیۓ اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے. نا صرف متوازن غذا جانوروں کی صحت اور نشوونما کیلیۓ ضروری ہے بلکہ ایک موثر اور سستا ظریعہ خوراک ہمارے منافع میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتا ہے.
جانوروں سے اچھی پیداوار اور منافع کیلیۓ ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے جانوروں کی غذائی ضروریات کیا ہیں. تو آج ہم بھینس کی غذائی ضروریات پر دور حاضر میں کی گئ ریسرچ اور موجودہ لٹریچر کی روشنی میں بحث کریں گے.
سب سے پہلے جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ بھینس کو اپنے جسمانی وزن کے اعتبار سے ایک خاص تناسب سے خشک مادہ کی ضرورت ہوتی ہے. آسان اصطلاح میں ڈرائی میٹر یعنی خشک مادہ خوراک میں موجود ٹھوس اجزا کو کہتے ہیں مثال کے طور پر یوں کہہ لیں کہ سبز چارے میں سے اگر پانی کو نکال لیں تو باقی ہمارے پاس خشک مادہ ہی بچے گا.
دور حاضر تک ڈیری سیکٹر میں زیادہ ریسرچ گاۓ پر ہوئی ہے اور بھینس پر ریسرچ تقریباً نا ہونے کے برابر ہے. بحرحال کچھ اچھی اسٹڈیز دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں بھینس کو اس کے جسمانی وزن کے لحاظ سے 3 سے 4 فیصد تک خشک مادہ کی فراہمی کی سفارش کی گئ ہے. مثال کے طور پر اگر ایک بھینس کا جسمانی وزن 500 کلو گرام ہے تو اس کو درکار ڈرائی میٹر / خشک مادہ
500 * 3٪ = 15 Kg
500 * 4٪ = 20 Kg
15 سے 20 کلو گرام ہے. اسی طرح ہمیں اپنے پاس موجود ہر بھینس کے جسمانی وزن کا اندازہ ہونا چاہیے تا کہ اس کو درکار ڈرائی میٹر کا بہتر تخمینہ لگایا جا سکے.

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بھینس کو درکار ڈرائی میٹر اور اس میں موجود ضروری اجزا کن کن عوامل کی وجہ سے مختلف ہو سکتے ہیں. تو کچھ اہم نقات یہاں ڈسکس کریں گے.
1. بڑھوتری کیلیۓ
2. دودھ کی پیداوار کیلیۓ
3. ریپروڈکشن کیلیۓ
4. حاملہ ہونے کی صورت میں
5. دودھ میں موجود چکنائی کی مقدار
6. جانور کھلے ہیں یا بندھے ہوۓ
7. موسم اور درجہ حرارت

اہم غذائی ضروریات

پانی
بھینس کیلئے پانی بہت ضروری ہے. کتنا ضروری ہے یہ سوال اہم ہے. مختلف ریسرچ اسٹڈیز میں بھینس کو درکار پانی اور جسمانی وزن کے تناسب کو زیرِ بحث لایا گیا ہے. بھینس کو درکار پانی ماحول، درجہ حرارت اور مہیا کردہ خوراک میں موجود ڈرائی میٹر سے مشروط کیا گیا ہے. لٹریچر میں پانی اور بھینس کے جسمانی وزن کی شرح کو تقریباً 6 سے 10 فیصد تک مقرر کرنے کی سفارش کی جاتی ہے. اس اثنا میں ایک بھینس پال کو اپنے ڈیری ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوۓ بھینس کیلیۓ تازہ اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے.

انرجی
پانی کی طرح بھینس کو بڑھوتری، ریپروڈکشن اور دودھ اور گوشت کی پیداوار کیلیۓ مناسب انرجی کی بھی ضرورت ہوتی ہے. لٹریچر میں اسے TDN ٹوٹل ڈیزالو نیوٹرینٹس سے مشروط کیا جاتا ہے.

پروٹین
پروٹین بھینس کی خوراک کا ایک نہایت اہم جز ہے. بہتر صحت، نشوونما اور ریپروڈکشن کیلیۓ بھینس کو درکار پروٹین کو تکنیکی لحاظ سے لٹریچر میں CP کروڈ پروٹین سے مشروط کیا جاتا ہے.

منرلز
باقی اجزا کی طرح بھینس کو مختلف جسمانی عوامل کیلیۓ اس کے جسمانی وزن کے لحاظ سے منرلز کی بھی ضرورت ہوتی ہے. لٹریچر میں درج ذیل منرلز کی دستیابی کی سفارشات کی گئ ہیں...
Calcium
Phosphorus
Magnesium
Sodium
Potassium
Chloride
Sulphur

غذا کی اقسام
جبکہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ بھینس کو درکار ضروری غذائی اجزا کون کون سے ہوں تو اب ہم ان کی دستیابی پر بحث کریں گے. کون کون سی چیز کتنی کتنی مقدار میں چاہیۓ اور ان کا حصول کیسے ممکن ہے اس کو سمجھنا سب سے زیادہ اہم ہے. بھینس کی خوراک کو ہم دو بنیادی حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں.
Concentrates and roughage (یعنی اجناس اور چارہ)
اسی طرح Roughage یعنی چارے کو ہم مزید دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں.
خشک چارہ. اس میں توڑی، پرالی اور (hay) ہے شامل ہیں

سبز چارہ
یہاں ایک اور اصول کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے اور وہ ہے کنسنٹریٹ یعنی ونڈے اور چارے کا تناسب. کسی بھی طرز کا ٹی ایم آر بناتے ہوۓ ہمیں اس تناسب کا خیال رکھنا ہو گا. اس ٹاپک پر جو اصول گاۓ پر لاگو ہوتا ہے وہ 60/40 ہے. یعنی 40 فیصد غذائی ضروریات ہمیں کنسنٹریٹ سے پوری کرنی ہیں اور 60 فیصد غذائی ضروریات چارے سے.
بھینس کے معاملے میں ہمارے ہمسایہ ملک میں کی گئ ایک ریسرچ کے مطابق یہ تناسب 1/3 اور 2/3 رکھنے کی سفارش کی گئی ہے. یعنی 1/3 (٪33.3) غذائی ضروریات کنسنٹریٹ اور 2/3 (٪66.7) غذائی ضروریات چارے سے پوری کریں گے.
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس تناسب پر کاربند ہونا کیوں ضروری ہے. تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سبز چارے اور خصوصاً خشک چارے یعنی توڑی وغیرہ میں فائبر کی مقدار کنسنٹریٹ سے قدرے زیادہ ہوتی ہے جو کہ جگالی کرنے والے جانوروں کیلئے نہایت ضروری ہے.
اسی طرح کسی بھی کمبینیشن میں ٹی ایم آر کی تکمیل سے پہلے ایک اور بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور وہ ڈرائی میٹر اور کروڈ پروٹین کی ریشو ہے. اس ریشو کو گاۓ اور بھینس دونوں پر ہونے والی ریسرچ اسٹڈیز میں ٪10 سے ٪14 فیصد تک رکھنے کی سفارش کی گئی ہے. جبکہ ہمارے ہمسائے ملک میں بھینس کی غذائی ضروریات پر کی گئی ایک ریسرچ میں اس تناسب کو 10 فیصد مقرر کیا گیا ہے.
اسی طرح ایک اور انڈین ریسرچ میں ہر ایک کلو دودھ جس کی فیٹ ٪4 کانسٹنٹ تصور کی گئی ہے کیلیۓ بھینس کو 90 گرام کروڈ پروٹین مزید مہیا کرنے کا کہا گیا ہے. اور یہ اصول دس کلو گرام دودھ سے اوپر لاگو کیا گیا ہے. ایک اور اسٹڈی میں ہر ایک کلو دودھ پر آدھا کلو کنسنٹریٹ میں اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے. جبکہ ہمارے پاکستان میں مختلف ونڈہ کمپنیوں والے ایک کلو دودھ پر ایک کلو ونڈہ کچھ دو کلو دودھ پر ایک کلو ونڈہ تجویز کرتے ہیں. خیر اس کے پیچھے کی سائنس وہ ہی جانیں.
تو چلیں اب ہم کوشش کرتے ہیں کہ موجودہ معلومات اور اصولوں کی روشنی میں ایک بہتر اور کم خرچ والا ٹی ایم آر بنائیں.

اصول نمبر 1. بھینس کے جسمانی وزن اور ڈرائی میٹر کا تناسب
بھینس کا جسمانی وزن = 500 کلو
ڈرائی میٹر ریشو = 3.5 فیصد
درکار ڈرائی میٹر = 500 * 3.5٪ = 17.5 کلو

اصول نمبر 2. ڈرائی میٹر میں کنسنٹریٹ اور چارے کا تناسب
آپ درج ذیل کسی بھی اصول کو فالو کر سکتے ہیں.
40-60 تناسب اور 33.3-66.7 تناسب
ہم یہاں دوسرے اصول کو فالو کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈومیسٹک سسٹم میں چارہ اور توڑی عام فارمر کو قدرے سستے داموں میسر ہوتی ہے اور بھینس کو اللہ نیں قدرتی صلاحیت دی ہے کہ وہ قدرے لو کوالٹی کی خوراک پر بھی بہتر پرفارم کر جاتی ہے.

کنسنٹریٹ سے درکار ڈرائی میٹر
17.5 * 33.3٪ = 5.83 کلو

فوریج یعنی خشک اور سبز چارے سے درکار ڈرائی میٹر
17.5 * 66.7٪ = 11.67 کلو

کیلکولیشنز.
اب ہم کنسنٹریٹ یعنی ونڈے کی کیلکولیشن کر لیتے ہیں. عام طور پر ونڈے کا ڈرائی میٹر 90 فیصد کے لگ بھگ ہوتا ہے. اگر ہم اس کو کانسٹنٹ لیں تو 5.83 کلو ڈرائی میٹر پورا کرنے کیلۓ چوبیس گھنٹوں میں ایک 500 کلو گرام جسمانی وزن والی بھینس کو جو ونڈہ کھلایا جاۓ گا اس کی کیلکولیشن درج ذیل ہے.
5.83 * 110٪ = 6.413 کلو گرام
یعنی ایک ایسی بھینس جس کا جسمانی وزن 500 کلو ہے اور وہ 10 کلو دودھ دیتی ہے اس کو تقریباً 6.5 کلو گرام ونڈہ درکار ہو گا.

فوریج سے ڈرائی میٹر کیلکولیشنز
11.6 کلو گرام ڈرائی میٹر جو فوریج سے پورا کرنا ہے اس کیلیۓ ہر فارمر اپنے علاقے کے حساب سے خشک چارے اور سبز چارے کا کمبینیشن بنا سکتا ہے. پاکستان میں رائج گوال اور کمرشل فارمننگ سسٹم کے لحاظ سے ہم توڑی، سائیلج اور مکئ کے سبز چارے کے کمبینیشن کو بطور کیس اسٹڈی ٹیسٹ کرتے ہیں کہ ہمیں درکار غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں کہ نہیں...
اس ضمن میں 1/3 ریشو سے تینوں اجزاء کو ٹی ایم آر کا حصہ بنانے والے اصول کو ٹیسٹ کرتے ہیں.

11.6/3 = 3.86 کلو ڈرائی میٹر توڑی

توڑی کا ڈرائی میٹر 90 فیصد کے لگ بھگ ہوتا ہے تو اس لحاظ سے توڑی سے 3.86 کلو درکار ڈرائی میٹر پورا کرنے کیلیۓ ہمیں درج ذیل توڑی کو اپنے ٹی ایم آر کا حصہ بنانا ہو گا
3.86 * 110٪ = 4.25 کلو توڑی

11.6/3 = 3.86 کلو ڈرائی میٹر سبز مکئ چارہ

اس کیلکولیشن کیلیۓ ہر فارمر کو اپنے علاقے میں موجود مکئ کے سبز چارے کے ڈرائی میٹر کا پتا ہونا چاہیے. مکی کے چارے کا ڈرائی میٹر فصل کی کٹائی پر منحصر ہوتا ہے کہ کس اسٹیج پر چارہ کی کٹائی کی جا رہی ہے. ویسے نارملی گاچے کا ڈرائی میٹر 18 فیصد کے لگ بھگ ہوتا ہے تو ہمیں تقریباً 21.5 کلو گرام مکئ کا سبز چارہ درکار ہو گا.

11.6/3 = 3.86 کلو ڈرائی میٹر سائیلج

سائیلج کا ڈرائی میٹر بھی اس کی کوالٹی پر منحصر ہوتا ہے جو عموماً 30 سے 35 فیصد تک ہوتا ہے. اگر ہم 33-32 فیصد ڈرائی میٹر والے سائیلج کو اپنے ٹی ایم آر کا حصہ بناتے ہیں تو 3.86 کلو ڈرائی میٹر پورا کرنے کیلیۓ ہمیں تقریباً 12 کلو سائیلج درکار ہو گا.

ٹی ایم آر کی کیلکولیشن
ونڈہ = 6.5 کلو
توڑی. = 4.25 کلو
مکی گاچا = 21.5 کلو
سائیلج = 12 کلو
ٹوٹل ٹی ایم آر (6.5 + 4.25 + 21.5 + 12) 44.25 کلو

کروڈ پروٹین کیلکولیشن

فرض کریں ونڈے کی CP 20% ہو تو
5.83 * 20٪ = 1172 گرام

گندم کی توڑی میں کروڈ پروٹین تقریباً ٪3 ہوتی ہے تو
3.86 * 3٪ = 115.8 گرام

مکئ گاچے کی CP تقریباً ٪6 کے لگ بھگ ہوتی ہے تو اس لحاظ سے کیلکولیشن کچھ یوں ہو گی...
3.86 * 6٪ = 231.6 گرام

مکئ کے سائیلج کی کروڈ پروٹین بھی تقریباً ٪6 ہوتی ہے تو
3.86 * 6٪ = 231.6 گرام

ٹوٹل (1172 + 115.8 + 231.6 + 231.6) 1751 گرام یعنی 1.751 کلو گرام بنتی ہے.

جب ہم ٹوٹل کروڈ پروٹین اور ڈرائی میٹر کی ریشو نکالتے ہیں تو
(1. 751 / 17. 5) * 100 = 10.005 ٪
یعنی تقریباً 10 فیصد نکلتی ہے جیسا کہ ایک انڈین ریسرچ اسٹدی میں سفارش کی گئی ہے.

اور اسی طرح اگر ہم ہر ایک کلو اضافی دودھ کیلیۓ 90 گرام پروٹین ایڈ کریں تو ہمیں ایگزیکٹلی 0.45 کلو گرام ونڈہ مزید دینا ہو گا بھینس کو...
0.45 * 20٪ = 90 گرام

ٹی ایم آر پرائس کیلکولیشن
میں اپنے علاقے میں موجودہ قیمتوں کے حساب سے اگر کیلکولیٹڈ ٹی ایم آر کی ٹوٹل قیمت نکالوں تو وہ کچھ یوں ہو گی....
ونڈہ-- 6.5 * 80 = 520 روپے
توڑی -- 4.25 * 18 = 76.5 روپے
مکئ گاچا-- 21.5 * 7.5 = 161.25 روپے
سائیلج-- 12 * 19 = 228 روپے
اسی طرح غذا میں کیلشیم اور فاسفورس کی کمی کو پورا کرنے کیلۓ اگر ہم سو سو گرام منرل مکسچر اور DCP ٹی ایم آر میں شامل کریں اور پانچ پانچ گرام ٹاکسن بائینڈر اور Yeast شامل کریں تو ان کی قیمت تقریباً (50+10+5+5) 70 روپے بنتی ہے.
تو ٹوٹل خرچ ایک دن کا ہوا تقریباً 1056 روپے
ونڈہ = 520
توڑی = 76.5
چارہ = 161.25
سائیلج = 228
منرلز ڈی سی پی وغیرہ = 70
ٹوٹل (520 + 76.5 + 161.25 + 228 + 70) 1055.75 روپے
CP.

Muhammad Farrukh Bashir Bhatti
Abdul Hameed
Yaseen Tipu
Abu Muhammad
Rana Waqas

04/06/2024

Address

Matli District Badin Sindh
Matli

Telephone

+923122662200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KK dairy farm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to KK dairy farm:

Share

Category