03/05/2026
قربانی کے نام پر مویشی پالوں کی تذلیل بند کرو!
عیدالاضحیٰ آتے ہی ہر سال ایک مخصوص نسل 🐕 باہر نکل آتی ہے۔
ہاتھ میں موبائل، منہ میں زہر، دماغ میں جہالت اور دل میں حسد لے کر یہ لوگ مویشی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔
کبھی یوٹیوبر بن کر، کبھی عوامی ہمدرد بن کر اور کبھی معاشی تجزیہ کار بن کر۔
ان کا ایک ہی مشن ہوتا ہے:
“مویشی پال کو لٹیرا ثابت کرو!”
“بیوپاری کو ظالم کہو!”
“جانور مہنگا ہے کا شور مچاؤ!”
کیونکہ ان کو سستی ویڈیوز بھی بنانی ہوتی ہیں، ویوز بھی لینے ہوتے ہیں اور عوام کی جہالت پر تالیاں بھی بجوانی ہوتی ہیں۔
مگر ان عقل کے اندھوں کو یہ نہیں معلوم کہ جس جانور کے آگے کھڑے ہو کر یہ چیخ رہے ہوتے ہیں، وہ جانور کسی دکان کی شیلف سے اٹھا کر نہیں لایا جاتا…
وہ سالہا سال کی محنت، خرچ، نیند کی قربانی، موسموں کی سختی اور گھر کے رزق میں کمی برداشت کر کے تیار کیا جاتا ہے۔
یہ جانور نہیں… ایک چلتا پھرتا سرمایہ ہوتا ہے
ایک قربانی کا بچھڑا پہلے نو ماہ اپنی ماں کے پیٹ میں پلتا ہے۔
گھبن گائے کی خوراک، دوائیں، ویکسین، حفاظت — الگ۔
پھر جب پیدا ہوتا ہے تو وہ سوشل میڈیا والوں کی طرح مفت کی ہوا نہیں کھاتا۔
وہ دودھ پیتا ہے… خالص دودھ۔
صرف چار کلو روزانہ بھی پیئے تو 680 روپے۔
اس کے بعد:سبز چارہ،خشک چارہ(بھوسہ)مہنگا ونڈا،نمکیات،ادوایات،ویکسئن،ملازمین کی تنخواہیں
بجلی،پانی،باڑے کی مرمت
کم از کم سات سو روزانہ مزید۔
یعنی ایک جانور پر روزانہ 1380 روپے سے اوپر۔
ایک مہینہ 41 ہزار سے زائد۔
ایک سال تقریباً 5 لاکھ۔
تین سال تقریباً 15 لاکھ۔
اور بڑے شہروں میں یہ لاگت اس سے کہیں زیادہ۔
اب ذرا اپنے دماغ کے زنگ اتارو اور حساب لگا کر بتاؤ —
دو لاکھ، تین لاکھ، چار لاکھ، پانچ لاکھ میں بکنے والا جانور کہاں مہنگا ہے؟
اصل مسئلہ قیمت نہیں… اصل مسئلہ مویشی پال سے حسد ہے
یہی لوگ شادی ہال میں دو گھنٹے کے کھانے پر پانچ ہزار پلیٹ دے آتے ہیں۔
یہی لوگ موبائل بدلنے پر ایک لاکھ اڑا دیتے ہیں۔
یہی لوگ برانڈڈ جوتے، گھڑیاں اور کپڑوں پر منہ بند رکھتے ہیں۔
مگر جب ایک مویشی پال اپنی تین سال کی محنت کا معاوضہ مانگتا ہے تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ محنت کش کا کمانا بہت سے نکموں کو ہضم نہیں ہوتا۔
یہ یوٹیوبر نہیں… مویشی پالوں کی عزت کے قاتل ہیں
قربانی کے دنوں میں کیمرہ لے