24/06/2025
"آمریتِ آم"
کہتے ہیں آم پھلوں کا بادشاہ ہے، مگر اس بار تو وہ واقعی تخت نشین ہو گیا! سر پر تاج، ہاتھ میں عصا، اور زبان پر للکار – "کہاں سے آئے ہو؟ میں بادشاہ ہوں!" یہ نہ کوئی سیاسی جلسہ ہے نہ بادشاہ سلامت کی سالگرہ، بلکہ یہ آم صاحب کی “بادشاہی انا” کا مظاہرہ ہے، جو دشمن کے رافیل جنگی جہاز کو بھی نظرِ کرم سے دیکھ رہے ہیں جیسے کوئی معمولی پرزہ ہو۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ آم صرف کھانے کی چیز نہیں رہا، بلکہ خود کو “سپر پاور” سمجھنے لگا ہے۔ دشمن ملک کے رافیل طیارے آئیں یا دوستوں کی دعوت، آم ہر جگہ اپنی “سوئٹ فرینڈلی ڈپلومیسی” لے کر پہنچتا ہے۔ اگر کبھی کوئی میز پر موجود نہ ہو تو دسترخوان خالی سمجھا جاتا ہے، اور اگر آم موجود ہو، تو سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ مہنگائی بھی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ آم نے اب اپنی PR ٹیم بھی بنالی ہے، اور ایکشن پوسٹرز چھپوا کر عوام کو یاد دلا رہا ہے کہ بادشاہی صرف ذائقے کی نہیں، رویے کی بھی ہوتی ہے۔ اگر کوئی سیب، کیلا یا انار ذرا سر اٹھائے، تو آم فوراً تاج پہن کر میدان میں آ جاتا ہے: "میں بادشاہ ہوں – تم کہاں سے آئے ہو؟"
یہ آم صرف رسیلا نہیں، بلکہ سیاسی بھی ہو چکا ہے۔ جیسے ہی گرمی کی آمد ہوتی ہے، ہر گلی کوچے میں اس کی مہم چل پڑتی ہے۔ پوسٹر، نعرے، جلسے “آم کی سرکار، سب پہ بھاری!”
خلاصہ یہ کہ آم اب صرف ذائقے کی بات نہیں، وہ ایک مکمل کردار ہے جو لڑ بھی سکتا ہے، ہنسا بھی سکتا ہے، اور اپنی سلطنت پر فخر بھی کر سکتا ہے۔
اب جب کبھی آپ آم کاٹنے لگیں، تو خیال رکھیے گا کہیں وہ تاج پہنے آپ کو نہ گھور رہا ہو، اور نہ ہی یہ کہہ رہا ہو:
"خبردار! میں بادشاہ ہوں، تم کہاں سے آئے ہو؟"