Anayatullah dairy & agri farm trader

Anayatullah dairy & agri farm trader Our mission is that to provide pure and organic dairy and agri product to our valuable clients.

دل اداس ہے۔۔۔آج میرے ایک قیمتی جانور نے  پانچ ماہ کا حمل ضائع کر دیا۔انتظار تھا ایک نئی زندگی کا، ایک نئی امید کا۔۔۔ مگر...
21/04/2025

دل اداس ہے۔۔۔

آج میرے ایک قیمتی جانور نے پانچ ماہ کا حمل ضائع کر دیا۔
انتظار تھا ایک نئی زندگی کا، ایک نئی امید کا۔۔۔ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
اس کے پیٹ میں دو بچے تھے، جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی چلے گئے۔
جو لوگ جانوروں سے محبت کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ کتنا تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے۔
دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ باقی جانوروں کو صحت مند رکھے اور آئندہ ایسی کوئی پریشانی نہ ہو۔

بچاؤ اور احتیاطی تدابیر:

ہر چھ ماہ بعد مکمل ویکسینیشن شیڈول پر عمل کریں (خصوصاً Brucellosis، FMD، IBR وغیرہ)

چارے کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، فنگس یا باسی چارہ نہ دیں

جانور کے آس پاس کا ماحول پرسکون اور صاف رکھیں

حمل کے دوران جانور کو زیادہ دباؤ یا سفر سے بچائیں

ریگولر چیک اپ اور جانور کی حالت پر نظر رکھیں، خاص طور پر پریگننسی کے درمیانی مہینوں میں
"تحریر: محمد ارسلان"

09/10/2024

پاکستان مالی سال 2023-24 کے لیے فوڈ سیفٹی کے معیارات کے حوالے سے سب سے کم خطرے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے ، جس میں چاول کی برآمدات یورپی چاول کی برآمدی مارکیٹ کا 25 فیصد بنتی ہیں ، جو ہندوستان کے 16 فیصد کو نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیتی ہیں ۔

یہ معلومات رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (آر ای اے پی) کے نومنتخب چیئرمین ملک فیصل جہانگیر اور وزیر تجارت جام کمال کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئیں ۔

جہانگیر نے وزیر کو بتایا کہ گزشتہ سال پاکستانی چاول برآمد کنندگان کے خلاف کیڑے مار ادویات اور دیگر مسائل کے لیے صرف 74 ریپڈ الرٹ جاری کیے گئے تھے جبکہ بھارت کے لیے یہ تعداد 264 تھی ۔ آر ای اے پی کے چیئرمین نے کہا کہ "اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی چاول کا شعبہ زیادہ تعمیل کرنے والا ہے" ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فوڈ سیفٹی کے معیارات کے حوالے سے سب سے کم خطرے والے ممالک میں سے ایک ہے ، جبکہ ترکی ، بھارت ، اسپین ، اٹلی اور برطانیہ جیسے ممالک کو نمایاں طور پر زیادہ تعداد میں الرٹس کا سامنا ہے ۔

وزیر نے بتایا کہ یوروپی چاول کی برآمدی منڈی میں ہندوستان کو پیچھے چھوڑ دیا

تاہم ، مسٹر جہانگیر نے ایک ایسی منفی مہم پر تشویش کا اظہار کیا جو ممکنہ طور پر پاکستان کی برآمدی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ انہوں نے ملاقات کے دوران مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی چاول کی برآمدات کو بہت سے حریفوں کے مقابلے میں کم ریگولیٹری چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

وزارت تجارت نے بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستان کے ساتھ مسابقت بڑھانے کے لیے کم از کم برآمدی قیمت کو ہٹا دیا ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق ، وزیر تجارت کمال نے پاکستان کی چاول کی برآمدات کو بڑھانے اور یورپی فوڈ سیفٹی معیارات کی تعمیل کو یقینی بنانے کے اقدامات پر زور دیا ۔ انہوں نے اس مسابقتی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت اور برآمد کنندگان کے درمیان زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔

جناب کمال نے پاکستان کی معیشت میں چاول کی برآمدات کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برآمدی قیمت کے لحاظ سے چاول کپاس کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چاول برآمد کنندگان آمدنی اور روزگار کا بنیادی ذریعہ ہیں ، حکومت کا مقصد مستقبل قریب میں برآمدات کو 4 ارب ڈالر سے بڑھا کر 6-7 ارب ڈالر کرنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم بین الاقوامی فوڈ سیفٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے معیارات کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ، خاص طور پر یورپ میں" ۔

دودھ والی گاۓ میں کون کون سی خوبیاں ھونی چاہیئںسب سے پہلی بات یہ ذھن میں رکھیں کہ کچھ نسلیں بریڈ دودھ کی پیداوار کے لۓ خ...
24/09/2024

دودھ والی گاۓ میں کون کون سی خوبیاں ھونی چاہیئں
سب سے پہلی بات یہ ذھن میں رکھیں کہ کچھ نسلیں بریڈ
دودھ کی پیداوار کے لۓ خاص اور مشہور ہیں
اور کچھ گوشت کی بڑھوتری اور مال برداری وغیرہ کیلۓ خاص ہیں
لھذا دودھ کیلۓ جو دیسی ولایتی یا کراس نسلیں مشہور ہیں انہیں اچھی طرح جانچ کر خریدیں
دودھ والا جانور نہ زیادہ موٹا تازہ ھو نہ بالکل لاغر
بلکہ متوسط ھو
چمڑی باریک دم پتلی کمر سیدھی قد لام زیادہ ھو حیوانہ نرم اور زیادہ لٹکا ھوا نہ ھو
بلکہ چاروں طرف سے ھموار چاروں تھن برابر
پچھلی ٹانگوں سے باہر کی طرف نکلتا ھوا ھو
دودھ والی رگیں ابھری ھوئی اور خم زدہ ھوں
پیٹ لٹکا ھوا نہ ھو کمر اور پٹھ مضبوط ھو
چاروں تھنوں سے دودھ کی دھاڑ برابر ھو

جزاکم اللہ خیرا

26/03/2024

گندم کی مناسب قیمت 5000 روپےفی من ہونی چاہئیے کیونکہ 4500 روپے فی من گندم کی پیداواری لاگت ہے حکومت اگر 4500 روپے سے کم امدادی قیمت مقرر کرتی ہے تو اس سے عارضی طور پر غریب عوام کو فائدہ ہو گا لیکن آنے والے تین سالوں تک گندم کا بحران پیدا ہو سکتا ہے اس کی تین وجوہات ہیں۰
1. اگر گندم کا ریٹ 4500 سے کم مقرر ہوا تو اس کو مہنگے کھل اور ناقص مہنگے ونڈے کی جگہ جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور اس طرح دودھ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ گندم مہنگی کھل اور ونڈے کی نسبت ایک بہتر پروٹین سورس ہے
2. اس سال گندم کا ریٹ پیداواری لاگت سے کم ہونے کی وجہ سے اگلے سال گندم کی کاشت کم ہو گی اور پیداوار مزید کم ہو جائے گی۰اور یہاں ایک اور بات کا اضافہ کرتا چلوں کہ ہر سال نئی نئی رہائشی کالونیاں بننے کی وجہ سے پورے پاکستان میں 1000 ایکڑ سے زیادہ مجموعی کاشتکاری کم ہوتی ہے
3. گندم کاریٹ عالمی مارکیٹ سے کم ہونے کی وجہ سے سمگلنگ بڑھ جاۓ گی۰
اب حکومت خود دیکھ لے کہ اسے عارضی فائدہ کرنا ہے یا آنے والے وقت میں مسلسل بحران پیدا کرنا ہے۰

Allhmdulilah female cafe.
26/12/2023

Allhmdulilah female cafe.

  کاشتکار گندم کی جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عمل کریں محمد ارسلان
26/12/2023


کاشتکار گندم کی جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عمل کریں محمد ارسلان

آپ کی تھوڑی سی لاپرواہی آپ کے جانور کو خطرے میں ڈال سکتی ہےFog Fever "فوگ فیور  "سردیوں کا بخارسردیوں کے چارہ جات کی لاع...
20/12/2023

آپ کی تھوڑی سی لاپرواہی آپ کے جانور کو خطرے میں ڈال سکتی ہے
Fog Fever "فوگ فیور "سردیوں کا بخار

سردیوں کے چارہ جات کی لاعلاج اور جان لیوا بیماری

محکمہ لائیو سٹاک پچھلے چند سالوں سے اس بیماری کے متعلق آگاہی مہم چلا رہا ہے

فوگ فیور کیسے ہوتا ہے، وجوہات اور بچاؤ کی تدابیر

موجودہ دنوں میں جب جانور کم پروٹین والے چارہ جات یا سبز چارے کی کمی کی وجہ سے زیادہ مقدار میں خشک چارہ جیسے توڑی، پرالی وغیرہ کھا رہے ہوں تو معدہ کے خوردبینی جاندار اپنے آپ کو ان کم پروٹین والے چارہ جات کے مطابق ڈھال لیتے ہے، لیکن جیسے ہی ایک دم سے سبز اور زیادہ پروٹین والا چارہ مثلاً لوسن، سرسوں اور خاص طور پر برسیم کھلایا جاتا ہے تو جانور ایک خطرناک، لاعلاج اور مہلک مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے

یہ مسئلہ کم پروٹین والے خشک چارہ جات کھانے والے جانوروں میں یکدم سبز اور پروٹین سے بھرپور چارہ کھانے کے 4 دن سے 10 دن تک ہوسکتا ہے
سبز اور زیادہ پروٹین والے چارہ جات میں پروٹین کا ایک جزو (امینو ایسڈ) ٹرپٹوفان (Tryptophan) ہوتا ہے، جس کو کم پروٹین والے خشک چارہ کھانے والے جانوروں کے معدے میں موجود مخصوص بیکٹریا ایک زہریلے کیمکل
3-methylindole (3-MI)
میں تبدیل کر سکتے ہیں
تھوڑی مقدار میں تو جسم اس کو برداشت کر لیتا ہے لیکن اگر معدہ میں اس کیمکل کی مقدار زیادہ پیدا ہو تو یہ پھپھڑوں میں پہنچ کر ان کو شدید نقصان پہنچاتا ہے
ایسے بیکٹیریا خشک اور کم پروٹین والا چارہ کھانے جانوروں کے معدے میں زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں اور جیسے ہی ان کو یکدم زیادہ پروٹین ملتی ہے تو یہ زیادہ مقدار میں زہریلا کیمکل بنا سکتے ہیں،
کیونکہ اس کیمکل سے پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اسی لیے بیماری کی علامت نمونیا جیسی ہوتی ہیں!!
سانس لینے میں دشواری/ کھینچ کر سانس لینا
جانور کھڑا رہتا ہے، بیٹھنے کی کی کوشش کرتا ہے لیکن پھپھڑوں کی سوزش اور درد کی وجہ سے بیٹھ نہیں پاتا
کھانسی، زکام، ناک سے ریشہ اور پانی
منہ سے زیادہ جھاگ کا گرنا
جانور کا الگ تھلگ، سست ہوجانا اور کھانا پینا کم کردینا
اکثر جانور کا ٹمپریچر نارمل ہی رہتا ہے بخار نہیں ہوتا، اور اگر ہو تو گائے بھینس میں بخار 103 تک ہی ہوتا ہے لیکن اوپر بیان کی گئی علامات ہوتیں ہیں۔

تحریر: AyeshaZahoorAgri

کچھ جانور ایک دو دن میں خود ٹھیک ہوجاتے ہیں اور اس مسئلہ کا زیادہ شکار نہیں ہوتے، لیکن کچھ جانوروں میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے اور جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ حالانکہ سب جانوروں کو ایک ہی طرح کی خوراک دی جا رہی ہوتی ہے۔ اگر 100 جانوروں کا فارم ہو اور خشک چارہ کھا رہے ہوں اور اسی طرح اچھی پروٹین والے سبز چارے ایک دم سے شروع کروا دئیے جائیں تو 50 جانور بیمار ہوسکتے ہیں اور 30 جانور اس بیماری سے مر بھی سکتے ہیں۔
کیونکہ یہ کیمکل پھپھڑوں پر اثر کرتا ہے اس لیے نمونیا اور سانس کی بیماری والی علامات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس بیماری کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا جو اس زہریلے کیمیکل کو ختم کرسکے۔ اللہ نہ کرے اگر یہ مسئلہ جانوروں میں ہو جائے تو کوئی دوائی، کوئی ٹیکہ، ڈرپ بوتل کچھ بھی علاج نہیں ہے۔ اور اگر جانور کو یہ بیماری ہو جائے تو 6-8 گھنٹے میں جانور مر بھی سکتا ہے۔ اس لیے احتیاط ہی علاج ہے!
جانور لوسن, برسیم, سرسوں وغیرہ کو بہت پسند کرتے ہیں اس لئے وہ زیادہ کھاتے ہیں اور بیمار ہوسکتے ہیں
جانور بھوکا ہو اور بہت زیادہ مقدار میں اچھی پروٹین والا سبز چارہ کھا لے تو بھی یہ بیماری ہوسکتی ہے
انتہائی چھوٹی سی احتیاط ہے، بس آپ نے خیال رکھنا ہے اور کوئی پریشانی نہیں
"جانور کم پروٹین والی خوراک، چارہ کھا رہا ہو اور ایک دم سے اچھی پروٹین والا چارہ دیا جائے تو اس بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے"
کوشش کریں کہ نئے چارے کو مکمل تبدیل کرنے میں 10-12 دن لگائیں، تھوڑی مقدار سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ خوراک تبدیل کریں تاکہ معدہ کے خوردبینی جاندار اپنے آپ کو اس تبدیلی کے مطابق ڈھال سکیں
اس بیماری کو فوگ فیور Fog Fever کہتے ہیں، پاکستان میں اس کو سردیوں کا بخار بھی کہا جاتا ہے۔
فوگ fog دھند کو کہتے ہیں دھند کا اس بیماری سے کوئی تعلق نہیں-
فوگ (foggage, fog) چارے کو بھی کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس بیماری کا نام فوگ فیور ہے
یہ بیماری '"فوگ فیور'" لاعلاج ہے لیکن اگر چھوٹی سی احتیاط کی جائے تو اس بیماری سے مکمل طور پر بچا جا سکتا ہے
چارہ ایک دم تبدیل نہ کریں، جو چارہ استعمال کر رہے ہیں اس کو نئے چارے سے آہستہ آہستہ تبدیل کریں
برسیم کو ہمیشہ خشک چارہ کے ساتھ ملا کر دیں
برسیم سرسوں وغیرہ کو کاٹ کر چند گھنٹے ایسے ہی پڑا رہنے دیں تاکہ اس میں نمی کی مقدار کچھ کم ہوسکے
زیادہ نمی پانی والے چارے سے جانور کو اپھارہ بھی ہوسکتا ہے
جانور کو رات کا ٹھنڈا پانی نہ پلائیں، تازہ پانی پلائیں، رات کو پانی کے برتن، کھرلیاں خالی کر تاکہ کہیں جانور خود ہی ٹھنڈا پانی نہ پی لیں
دودھ نکالنے کے بعد جانور کو تازہ پانی ضرور پلائیں
جانوروں اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کو ٹھنڈی ہوا سے بچائیں

تحریر: Ayesha Zahoor

بیماری بہت خطرناک ہے لیکن احتیاط بہت چھوٹی سی ہے کہ سردیوں کا چارہ ایک دم سے تبدیل نہ کریں۔
اس چھوٹی سی کام کی بات کو شئیر کردیں تاکہ پیغام زیادہ لوگوں تک پہنچ جائے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے جان و مال میں برکت عطا فرمائے آمین

05/12/2023

*وفاقی حکومت کا دودھ سمیت چھوٹے اور بڑے گوشت کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار پیداوار کنندگان کو دینے کا فیصلہ*

چکوال (عبدالغفار پارس) وفاقی وزارت برائے غذائی تحفظ نے دودھ،مٹن اور بیف کی قیمت مقرر کرنے کے اختیارات کسانوں اور پیداوار کرنے والوں کو دینے کی پالیسی تیار کرلی،جس کے تحت صوبائی حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ دودھ،گائے اور بکرے کے گوشت کی قیمتوں کو مقرر کرنے کا حکومتی اختیار ختم کریں،اس سلسلہ میں مذکورہ تینوں اہم اشیائے ضروریہ کی قیمت کا تعین کا اختیار نجی شعبہ کو دینے کے متعلق پالیسی صوبہ پنجاب کو بھجوادی گئی ہے،متن کے مطابق دودھ،گائے اور بکرے کے گوشت کی قیمت مقرر کرنے پیداوار کنندگان میں مقابلہ کرانے کا موقع فراہم کیا جائے،کسان کو اختیار ملنے سے تینوں اشیاء کی قیمتیں کم ہونگی،تینوں اشیاء ضرورت کی حکومتی قیمت مقرر کرنا نجی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کا باعث ہے،نجی شعبہ کو قیمت تعین کا اختیار ملنے سے پیداوار میں اضافہ ہوگا،مذکورہ تینوں اشیاء ضرورت کی قیمت کم مقرر کرنا ملاوٹ کے رجحان کو جنم دیتا ہے،بازاروں میں قیمت خود مقرر کرنے کا اختیار ملنے سے مقابلہ کیلئے سازگار فضا جنم لے گی اور ان اشیاء کے نرخ کم ہونگے،حکومت کی طرف سے ان اشیاء کی قیمت پیداواری لاگت سے بھی کم مقرر کرنے سے پیداوار کنندگان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

انتہائی اہم معلوماتآج کے دور میں کچھ لوگ جانوروں کے سائز میں کچھ عجیب سی تبدیلیاں کر رھے ہیں ک جانور کے پیٹ کا سائز کم ہ...
20/11/2023

انتہائی اہم معلومات
آج کے دور میں کچھ لوگ جانوروں کے سائز میں کچھ عجیب سی تبدیلیاں کر رھے ہیں ک جانور کے پیٹ کا سائز کم ہو گا تو جانور خوراک کم کھائے گا اور اگر پیٹ کا سائز زیادہ ہو تو جانور خوراک زیادہ کھاتا ہے
اِس میں کوئی شک نہیں ہے جانور کے پیٹ کا سائز زیادہ ہو تو جانور خوراک زیادہ کھاتا ہے لیکن ہماری ریسرچ کے مطابق جِس جانور کے پیٹ کی چوڑائی زیادہ ہو گی وہ جانور خوراک بی زیادہ کھاتا ہے اور دودھ دینے کی صلاحیت بی زیادہ ہوتی ہے
یہ ہمارا ذاتی تجربہ بی ہے اور دی ہوئی تصویر میں سائنس بی یہ ہی ثابت کر رہی ہے کہ جس جانور کے پیٹ کی چوڑائی زیادہ ہوگئی وہ زیادہ منافع بخش جانور ثابت ہو گا۔میری رائے سے ہو سکتا آپ اتفاق نہ کریں اپنی رائے سے کمنٹ میں اگائی فرمائیے ۔

14/11/2023

آٹے کی قیمت میں 100 فیصد سے زائد اضافے کی منظوری دے دی گئی فی کلو آٹے کی قیمت میں 75 روپے کا ہوشربا اضافہ، محکمہ خوراک پنجاب نے گندم اور آٹے کے ریٹ مقرر کر دیئے.
14 نومبر 2023ء) آٹے کی قیمت میں 100 فیصد سے زائد اضافے کی منظوری دے دی گئی، فی کلو آٹے کی قیمت میں 75 روپے کا ہوشربا اضافہ، محکمہ خوراک پنجاب نے گندم اور آٹے کے ریٹ مقرر کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے آٹے کی سرکاری قیمت میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد محکمہ خوراک پنجاب نے گندم اور آٹے کے ریٹ مقرر کر دیئے۔
محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے گندم اور آٹے کے ریٹ مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فی کلو آٹے کی قیمتوں میں 75 روپے کا ہوشربا اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد فی کلو آٹے کی قیمت 65 روپے سے بڑھا کر 140 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ گندم کا فی من ریٹ 4700 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ 10 کلو آٹے کے تھیلے کا ایکس مل ریٹ 1374 روپے مقرر کیا گیا ہے تاہم 10 کلو آٹے کے تھیلے کا پرچون ریٹ 1399 روپے مقرر ہوا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 2022 میں گندم کا فی من ریٹ 2300 روپے تھا جبکہ 10 کلو آٹے کا تھیلا ایکس مل ریٹ پر655 روپے میں دستیاب تھا، اسی طرح 2022 میں 10 کلو آٹے کا تھیلا پرچون میں 650 روپے میں فروخت ہوتا تھا جبکہ فی کلو آٹا 65 روپے میں ملتا تھا۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی آٹے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فلور ملز کے مطابق سرکاری گندم کی فراہمی میں تاخیر کے باعث آٹے کے دام میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اوپن مارکیٹ میں فی من گندم کی قیمت 200 اضافے کے بعد 4800 روپے تک پہنچ گئی جب کہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی ایکس مل قیمت 100 مزید روپے بڑھ کر 2800 روپے ہوگئی۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے بعد پرچون میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2900 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکو مت پنجاب کی جانب سے فلور ملوں کیلئے 4700روپے فی من اجرائی نرخ کوغیر حقیقی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ گندم کے اعلان کردہ اجرائی نرخ فوری واپس لئے جائیں،حکومت از سر نو جائزہ لے کر مناسب نرخوں کا اعلان کرے

11/11/2023

*السلام علیکم و رحمةالله و بركاته*...🤝
*ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب-*___*اللۀ جسے چاھے بے حساب رزق عطاء کرتا ھے۔۔* اللہ تعالیٰ سب بھائیوں کے حلال رزق میں برکت عطا فرمائے۔آمین۔
*اوکاڑہ غلہ منڈی۔*
*آج کی رپورٹ*
*11.11.2023*
دھان🌾 1509 , 1692 اور کائنات 1121
ریٹ4200سے5300
دھان 🌾ایری فین
ریٹ3100سے4250
دھان🌾ایری6+ہائی بریڈ
ریٹ2300سے3250
دھان🌾سپری
ریٹ3000سے4200
تل 🌱 آمدن 300 سے 350 توڑا
ریٹ 19500 سے 20800
جوار 🌿 آمدن 400 سے 450 توڑا تقریبا
ریٹ 4500 سے 4925
باجرہ🌾 آمدن مناسب
ریٹ 2250 سے2650
مٹر🍂 آمدن 10 سے 20 توڑا
ریٹ 2200 سے 4990
سرسوں🍀 آمدن 450 سے 500 توڑا تقریبا
ریٹ 6600 سے 7050
سرسوں☘️ ہائی اولا 6400 سے 7200
مکئی 🌽 آمدن 19000 سے 20000 بوری تقریبا
ریٹ 1500 سے 2225
نئی 🌽 مکئی آمدن 7000 سے 7500 بوری
ریٹ 1700 سے 2155
رواں🍁 آمدن 80 سے 90 توڑا
ریٹ 8000 سے 12500
سورج مکھی🌻🌼 آمدن 10 سے 20 توڑا
ریٹ 5000 سے 6500 ❌
مونگی 🍃آمدن مناسب
ریٹ 4000 سے 8000
جنتر نیا آمدن 20 سے 25 توڑا 2500 سے 4800
کپاس ☁️ (نرما) آمدن 40 من
5500 سے 6700
سرخ مرچ 🌶️ دیسی
10000 سے 11000
سرخ مرچ 🌶️ ہائی برڈ
7000 سے 8000
سرخ مرچ 🍒 قندری
21500 سے 27500
*غلہ منڈی اوکاڑہ*

Address

Okara

Telephone

+923471741845

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anayatullah dairy & agri farm trader posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Anayatullah dairy & agri farm trader:

Share

Category