Life in UK with Ahsan

Directions

Life in UK with Ahsan برطانیہ کو صرف دیکھیں نہیں، سمجھیں بھی
🎥 Real UK Life & Daily Vlogs
💼 Jobs • Work • Career
📚 Visa • Study • Useful Information
🏴 Exploring Scotland & Beyond

25/10/2026

برطانیہ اور یورپ میں وقت ایک گھنٹہ پیچھے کر دیا گیا ہے، مگر ایسا کیوں؟

آج 25 اکتوبر کو برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک میں گھڑیوں کا وقت ایک گھنٹہ پیچھے کر دیا گیا ہے۔ یعنی رات کے 2 بجے گھڑی دوبارہ 1 بجے پر آ گئی، جس سے ہمیں ایک گھنٹہ اضافی ملا۔ اسے موسمِ سرما کا وقت (Winter Time) کہا جاتا ہے۔

اس تبدیلی کا بنیادی مقصد دن کی روشنی کو لوگوں کے روزمرہ معمولات کے ساتھ بہتر انداز میں ہم آہنگ کرنا ہے۔ گرمیوں میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جاتی ہیں تاکہ شام کو زیادہ دیر تک روشنی رہے، جبکہ سردیوں میں وقت واپس پیچھے کر دیا جاتا ہے تاکہ صبح نسبتاً جلد روشنی ہو سکے۔ یہ تبدیلی برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک میں ہوتی ہے، تاہم تمام یورپی ممالک اس نظام پر عمل نہیں کرتے.

اب دن اور رات میں کیا فرق ہوگا؟
وقت کی اس تبدیلی سے دن کی اصل طوالت میں کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ یہ سورج کی روشنی کے اوقات کو تبدیل نہیں کرتی بلکہ صرف گھڑی کا وقت بدلتی ہے۔ البتہ اب سورج تقریباً ایک گھنٹہ پہلے طلوع ہوگا اور شام بھی تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہو جائے گی۔ سردیوں کے قریب آنے کے ساتھ دن مزید چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی جائیں گی۔ برطانیہ اور آئرلینڈ میں دسمبر کے مختصر ترین دنوں میں عموماً صرف 7سے 8 گھنٹے دن کی روشنی ملتی ہے، جبکہ رات تقریباً 16 سے 17 گھنٹے طویل ہو سکتی ہے۔

کبھی کبھی کائنات کے خالق و مالک سے بھی گلہ ہونے لگتا ہے۔ معلوم نہیں یہ گلہ جائز ہے یا گناہِ کبیرہ، مگر جب آنکھوں کے سامن...
13/10/2026

کبھی کبھی کائنات کے خالق و مالک سے بھی گلہ ہونے لگتا ہے۔ معلوم نہیں یہ گلہ جائز ہے یا گناہِ کبیرہ، مگر جب آنکھوں کے سامنے ظلم ناچتا ہو، مظلوموں کی آہیں آسمان تک پہنچتی ہوں اور ظالم اپنی طاقت کے نشے میں انسانوں کی زندگیاں برباد کرکے بھی دندناتے پھرتے ہوں، تو دل میں اٹھنے والے سوالات کو آخر کون روک سکتا ہے؟ یا اللہ! اگر ہر ظالم سے اس کے ظلم کا حساب قیامت کے دن ہی لینا ہے، تو پھر اس دنیا میں بھی کسی کو نشانِ عبرت کیوں نہیں بنایا جاتا؟ جن لوگوں نے تیرے بندوں کا خون بہایا، ماؤں کی گودیں اجاڑیں، بچوں کو یتیم کیا، خاندانوں کو برباد کیا اور پوری نسلوں کو اذیتوں میں دھکیل دیا، ان کے مظلوموں کو اسی دنیا میں انصاف کی جھلک کیوں نصیب نہیں ہوتی؟
یا اللہ! قیامت کے دن تو ہر شخص اپنے اعمال کے حساب میں الجھا ہوگا، مگر ان مظلوموں کا کیا جنہوں نے ساری زندگی ظلم سہا، اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، اپنے گھر اجڑتے دیکھے اور انصاف کی آس لیے دنیا سے رخصت ہوگئے؟ ان ماؤں کو کیا جواب ملے گا جن کے بچے چھین لیے گئے؟ ان بچوں کے درد کا مداوا کیا ہوگا جن سے ان کے والدین چھین لیے گئے؟ ہم جانتے ہیں کہ تیری حکمت ہماری سمجھ سے بلند ہے اور تیرا انصاف اٹل ہے، مگر دل یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ جن لوگوں نے تیرے بندوں کے لیے اس دنیا کو جہنم بنا دیا، کیا ان کے لیے اسی دنیا میں عبرت ناک انجام ممکن نہیں؟ کیا کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مظلوم بھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ جن ہاتھوں نے ان کی زندگیاں برباد کیں، وہ ہاتھ بھی کٹ چکے ہیں؟
پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں؛ ایوب خان، جنرل یحییٰ، ضیاء الحق اور پرویز مشرف سے لے کر جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل عاصم منیر تک، چہرے بدلتے رہے، اقتدار کے ایوان آباد ہوتے رہے، مگر طاقتور کے ظلم کا اسی دنیا میں حقیقی حساب لینے کا سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

احسن ریاض خان

11/10/2026

مجھے معلوم ہے کہ پشاور میں موبائل سگنلز اور وائی فائی کام نہیں کر رہے، لیکن اس کے باوجود اگر کوئی دوست پشاور کے موجودہ حالات سے باخبر ہو اور معلومات فراہم کر سکے، خصوصاً پشاور کینٹ، اسمبلی ہاؤس، قلعہ بالاحصار اور دیگر اہم مقامات کے آس پاس کی صورتحال کے بارے میں، تو مہربانی کرکے آگاہ کریں۔

آپ کی مہربانی ہوگی۔ شکریہ۔

ایک پنجابی وزیراعظم نے، ایک پنجابی جرنیل کے حکم پر سندھی صدر کو مراسلہ بھجوایا، سندھی صدر سے اس پر دستخط کروائے اور یوں ...
11/10/2026

ایک پنجابی وزیراعظم نے، ایک پنجابی جرنیل کے حکم پر سندھی صدر کو مراسلہ بھجوایا، سندھی صدر سے اس پر دستخط کروائے اور یوں ساڑھے چار کروڑ پشتونوں پر ایمرجنسی نافذ کر دی۔ ایک بات تو واضح ہو گئی کہ جب پشتونوں اور بلوچوں کے وسائل، امن، روزگار اور ترقی کو محدود کرنے کی بات آتی ہے تو پنجابی اور سندھی سب ایک صفحے پر نظر آتے ہیں۔ مگر دوسری طرف بدقسمت پشتون آج بھی آپس میں دست و گریباں ہیں، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں اور اپنی اجتماعی طاقت کو خود ہی کمزور کر رہے ہیں
لیکن
یاد رکھو! چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں

11/10/2026

میرے ذہن میں آج صبح سے ایک سوال مسلسل گردش کر رہا ہے کہ آخر خیبر پختونخوا میں ایسا کون سا سانحہ پیش آنا باقی ہے، کون سی قیامت ٹوٹنا باقی ہے اور کون سی حد پار ہونا باقی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، تمام مکاتبِ فکر، تمام دانشور اور تمام بااثر لوگ اپنے اپنے مفادات، سیاسی اختلافات اور مصلحتوں کی دیواریں گرا کر ایک زبان ہو جائیں؟ آخر وہ کون سا لمحہ ہوگا جب سب اس نظام، اس ریاستی جبر اور ان جرنیلوں کے خلاف ایک ساتھ سڑکوں پر نکلیں گے؟ کیا اب بھی کوئی ایسا سانحہ باقی ہے جو لوگوں کو ان کی خاموشی سے جھنجھوڑ کر باہر نکال سکے؟

صاحبِ علم، اہلِ دانش، دوست و احباب سے گزارش ہے کہ اس سوال پر اپنی رائے اور نقطۂ نظر سے ضرور آگاہ کریں-شکریہ

سرجھکا کر چلنے کی قیمت ملتی ہے اور سر اٹھا کر چلنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔۔۔۔وفا کر گیاجوان❤️
11/10/2026

سرجھکا کر چلنے کی قیمت ملتی ہے اور سر اٹھا کر چلنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔۔۔۔وفا کر گیاجوان❤️

پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ٹاؤٹوں کے ٹٹے ٹائٹ کر رکھے ہیں۔ دوسری ط...
10/10/2026

پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ٹاؤٹوں کے ٹٹے ٹائٹ کر رکھے ہیں۔ دوسری طرف سہیل آفریدی سے بغض رکھنے والا مفاد پرست ٹولہ، جن کے کرپٹ سیاسی مشران گنڈاپوری حکومت میں خوب مزے لوٹ رہا تھا اور ان کو بھی ہڈی مل جاتی تھی بدلے میں یہ اس وقت بھی اٹھاتے تھے اور آج بھی دریغ نہیں کرتے، اب چونکہ سہیل آفریدی نے بعض لوگوں کو وزارتوں اور مشیر کے عہدوں سے فارغ کر دیا ہے، اس لیے وہی مفاد پرست چاپلوس ٹولہ اب سہیل آفریدی کے خلاف پروپیگنڈا، الزامات اور ناکامی کی کہانیاں گھڑنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔لیکن یاد رکھیں، پی ٹی آئی کے کارکنان نے ایسے ذاتی مفادات رکھنے والے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا۔ میری نظر میں ایسے چاپلوس لوگ محسن نقوی اور عطا تارڑ جیسے اسٹیبلشمنٹ کے پیداواروں سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔ وہ کم از کم کھل کر مخالفت تو کرتے ہیں، بلکہ کھل کر دشمنی تو کرتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ اپنے ہی لوگوں میں رہ کر، مفاد حاصل کرکے، پھر مفاد ختم ہوتے ہی پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔
بہرحال، سہیل آفریدی! تن کے رکھو۔ عمران خان، پی ٹی آئی اور ہماری فتح قریب ہے۔
ویسے بھی پاکستان کو ٹھیک کرنے، پاکستان کو آئین کے مطابق چلانے کا ٹھیکہ پی ٹی آئی اور عمران خان نے ہی تو لیا ہے۔ باقی پاکستانی سوتے رہیں یا ہماری ٹانگیں کھینچتے رہیں۔شکریہ

احسن ریاض خان

5 اکتوبر سے 8 اکتوبر20235 اکتوبر 2023، صبح تقریباً 10 بجے۔ میری بیوی ڈلیوری روم میں تھی اور میں ہسپتال کے دفتر میں اپنے ...
08/10/2026

5 اکتوبر سے 8 اکتوبر2023

5 اکتوبر 2023، صبح تقریباً 10 بجے۔ میری بیوی ڈلیوری روم میں تھی اور میں ہسپتال کے دفتر میں اپنے ایک دوست کے ساتھ چائے پی رہا تھا۔ میں ایک ایسی خوشخبری کا انتظار کر رہا تھا جس کا شاید ہر باپ کو انتظارہوتا ہے۔ میں بیٹے کا باپ بننے والا تھا۔
ہمیں پہلے سے جنس معلوم تھا کہ بیٹا ہے۔ اس کے لئے کپڑے خرید لیے تھے، گھر میں اس کے آنے کی تیاریاں کر رکھی تھیں اور اس کا نام بھی"امن" رکھ لیا تھا میں بس یہی سوچ رہا تھا کہ کچھ دیر بعد اپنے بیٹے کو پہلی بار گود میں اٹھاؤں گا۔
لیکن زندگی نے شاید میرے لیے کچھ اور لکھ رکھا تھا۔

تھوڑی دیر بعد میری بیوی کی بہن کی کال آئی: “احسن، جلدی آؤ۔ بچے کو ایمرجنسی لے جاؤ۔ ڈاکٹر کہہ رہی ہیں کہ بچے کی سانس نہیں چل رہی۔”
بس اتنا سننا تھا۔ اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں کہ میں وہاں تک کیسے پہنچا۔میں صرف بھاگا تھا۔ ایسا لگا جیسے ایک لمحے میں میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ہو۔
وہاں پہنچا تو اپنے بچے کو گود میں اٹھایا۔ میرا بچہ خون سے لت پت تھا۔ میں اسے دیکھ رہا تھا اور اپنے دل کو تسلی دے رہا تھا: “کچھ نہیں ہوا… ابھی روئے گا… ابھی اس کی چیخ نکلے گی… ابھی سانس چل پڑے گی… ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا۔” مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں خود کو تسلی دے رہا تھا یا اپنی ٹوٹتی ہوئی امید کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
10 منٹ گزرے۔ پھر 15 منٹ۔ آدھا گھنٹہ، ایک گھنٹہ، دو گھنٹے، تین گھنٹے۔ پھر شام ہوگئی۔ لیکن میرے بیٹے نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ کوئی آواز نہیں نکالی، کوئی چیخ نہیں آئی۔ وہ شیشے کے اندر تھا، مسلسل آکسیجن پر تھا، اور میں شیشے کے باہر کھڑا بے بسی سے اسے دیکھ رہا ہوتا تھا۔
اس وقت مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ انسان کتنا بے بس ہو سکتا ہے۔ آپ کا بچہ آپ کی آنکھوں کے سامنے زندگی اور موت کے درمیان ہو، آپ اس کے باپ ہوں، اپ کے پاس پیسے بھی ہو،وسائل بھی ہو آپ اسے بچانے کے لیے اپنی جان بھی دے سکتے ہوں، لیکن پھر بھی آپ کچھ نہ کر سکیں۔
میں کبھی اندر جاتا، کبھی باہر آتا۔ کبھی ڈاکٹر کو ڈھونڈتا، کبھی نرس سے پوچھتا، کبھی اپنے بچے کو دیکھنے جاتا اور کبھی ہسپتال کے کسی کونے میں بیٹھ کر روتا رہتا۔ کبھی سڑک کے کنارے بیٹھ جاتا۔ مجھے نہیں معلوم میں کتنی بار رویا۔ مجھے صرف اتنا معلوم تھا مجھے اپنا بیٹا چاہیے تھا۔
رات گزر گئی، لیکن امید نہیں مری تھی۔ صبح ہوئی تو میں نے پھر خود کو سمجھایا کہ شاید آج کچھ ہو جائے، شاید آج میرا بچہ آنکھیں کھول دے، شاید اللہ کوئی معجزہ کر دے۔
میں ڈاکٹروں کو خود ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے بچے کے پاس لے جاتا تھا۔ ہاؤس آفیسر سے لے کر میڈیکل آفیسر تک، اور میڈیکل آفیسر سے لے کر چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر ایوب نواز،ڈاکٹر اسد اللہ تک تک۔ میں کبھی کسی ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑکے لے آتا، کبھی کسی سے منت کرتا کہ میرے بچے کو دیکھ لیں۔ ڈاکٹر ایوب نواز اپنا کلینک چھوڑ کر میرے بچے کو دیکھنے آتے تھے۔
ہسپتال میں موجود لوگ بھی شاید مجھے دیکھ کر حیران ہوتے ہوں گے۔ شاید سوچتے ہوں گے کہ یہ لڑکا بار بار ڈاکٹروں کو پکڑ کر اپنے بچے کے پاس کیوں لے کر آتا ہے۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ میں کسی عام مریض کے لیے نہیں بھاگ رہا تھا۔ میں اپنے بیٹے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ میں اس امید کے پیچھے بھاگ رہا تھا کہ شاید کوئی ڈاکٹر، کوئی دوا، کوئی علاج یا کوئی معجزہ میرے بچے کو واپس لے آئے۔

دوسرا دن بھی گزر گیا۔

اور پھر تیسرا دن آیا۔

ڈاکٹر نے مجھے بتایا: “حالات کل سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ بچے کے بچنے کے چانسز تیس فیصد سے بھی کم ہیں۔ اور اگر یہ بچ بھی گیا تو شاید چل پھر نہ سکے، دماغ صحیح نہ کرے… ایک زندہ لاش کی طرح زندگی گزارے گا۔”
میں نے یہ الفاظ سنے اور مجھے لگا جیسے میرے اندر کچھ ختم ہوگیا۔
میں قریب کی مسجد میں چلا گیا۔ اللہ کے سامنے بیٹھ گیا۔ پھر میں رویا، بہت رویا، گڑگڑایا، منتیں کیں۔ اس وقت مجھے دنیا کی کوئی چیز نہیں چاہیے تھی۔ نہ پیسہ، نہ گھر، نہ کوئی اور خوشی۔ مجھے صرف اپنا بچہ چاہیے تھا۔

میں نے اللہ سے کہا: “یا اللہ، میرے بچے کی جان بچا لے۔ میں کچھ نہیں کر سکتا، تو سب کچھ کر سکتا ہے۔”

شام کو ڈاکٹر ایوب نواز نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا، چائے پلائی اور ریلیکسیشن کی دوا دی۔ میں وہاں بیٹھا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو پہلے ہی معلوم ہو چکا تھا کہ میرا بچہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔
تھوڑی دیر بعد میری ساس کی کال آئی۔ انہوں نے کہا: “گھر فون کرکے چیزیں، کمبل وغیرہ منگوا لو… بچہ ختم ہو گیا ہے۔”
بس۔ وہ ایک جملہ تھا اور میرے تین دن کی ساری امید ایک لمحے میں ختم ہوگئی۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے کیسے صبر دیا۔
5 اکتوبر کو میں ایک بیٹے کے پیدا ہونے کی خوشخبری کا انتظار کر رہا تھا۔ 8 اکتوبر کو میں اسی بیٹے کے مرنے کی خبر سن رہا تھا۔ درمیان میں صرف تین دن تھے۔ صرف 72 گھنٹے۔

میں شاید دو تین گھنٹے سے زیادہ سویا بھی نہیں تھا۔ باقی وقت ہسپتال میں گزرا؛ کبھی بچے کے شیشے کے باہر، کبھی ڈاکٹر کے پیچھے، کبھی مسجد میں، کبھی کسی کونے میں بیٹھ کر، کبھی رو کر، کبھی دعا کرکے اور کبھی صرف خاموش کھڑے ہو کر اپنے بچے کو دیکھتے ہوئے۔
امن دنیا میں صرف تین دن رہا، لیکن میرے لیے یہ تین دن خوشی اور قیامت کے درمیان کا فاصلہ بن گئے۔

آج بھی جب 5 اکتوبر آتا ہے تو میرے ذہن میں سب سے پہلے اپنے بیٹے کا نام آتا ہے: امن۔ اور جب 8 اکتوبر آتا ہے تو وہی ہسپتال، وہی شیشہ، وہی آکسیجن، وہی انتظار، وہی مسجد، وہی دعا اور وہی فون کال دوبارہ آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔
یہ میری زندگی کا پہلا بڑا امتحان تھا۔ ایسا امتحان جس کے لیے انسان کبھی تیار نہیں ہوتا۔ اور شاید کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جن سے انسان نکل تو جاتا ہے، لیکن وہ دکھ انسان کے اندر سے کبھی نہیں نکلتے۔
اللہ تعالیٰ میرے "امن"کو اپنی رحمت میں جگہ دے، اسے جنت میں اپنے پاس رکھے۔ اور اگر آخرت میں دوبارہ ملاقات ہوئی تو میری صرف ایک خواہش ہے:
اس بار میں اپنے بیٹے کو گود میں اٹھاؤں، اور کوئی مجھے اس سے دوبارہ جدا نہ کرے۔
یا اللہ اور کسی بھی ماں باپ کو ایسی آزمائش نہ دکھا۔

آمین۔

کتابیں پڑھنے کا شوق مجھے بچپن ہی سے تھا۔ ایف ایس سی تک میں باقاعدگی سے اخبارات، مختلف آرٹیکلز اور طرح طرح کی کتابیں پڑھت...
08/10/2026

کتابیں پڑھنے کا شوق مجھے بچپن ہی سے تھا۔ ایف ایس سی تک میں باقاعدگی سے اخبارات، مختلف آرٹیکلز اور طرح طرح کی کتابیں پڑھتا رہتا تھا۔ مطالعہ میرے لیے صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ نئی چیزیں جاننے، سمجھنے اور اپنی سوچ بنانے کا ایک اہم وسیلہ تھا۔
لیکن یونیورسٹی پہنچنے کے بعد اپنے کورس کی کتابوں اور تعلیمی مصروفیات نے آہستہ آہستہ اس ذوق کو کچھ کم کر دیا۔ زندگی کی مصروفیات بھی بڑھتی گئیں اور وہ باقاعدہ مطالعہ، جو کبھی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا، کہیں پیچھے رہ گیا۔
اس کے باوجود میں آج بھی اہلِ مطالعہ لوگوں کی بہت قدر کرتا ہوں اور ان کی بات کو اہمیت دیتا ہوں۔ کیونکہ جو لوگ پڑھتے ہیں، وہ صرف سنی سنائی باتیں آگے نہیں پہنچاتے؛ وہ پڑھتے ہیں، سیکھتے ہیں، سوال کرتے ہیں، دلیل دیتے ہیں اور اچھی دلیل کو ماننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں معاشرے کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

میرا کزن بھی کتابوں سے محبت کرنے والے انسان ہیں، اور اب انہوں نے اسی شوق کی وجہ سے کتابیں لوگوں تک بھی پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا آن لائن بک اسٹور “Book Cafe | بک کېفې” ہے، نیچے لنک دیا ہے ،جہاں سے آپ پشتو، اردو اور انگریزی زبانوں میں ادب، تاریخ، سیاست اور دیگر موضوعات پر اچھی کوالٹی کی کتابیں مناسب قیمت پر منگوا سکتے ہیں۔
آپ کتاب اپنے گھر، دفتر یا ہاسٹل کی دہلیز تک منگوا سکتے ہیں۔
اور ہاں، اگر میرا ریفرنس دیں گے تو شاید قیمت آپ کو مزید اچھی مل جائے… بلکہ ممکن ہے ڈلیوری بھی فری ہو جائے۔
خاص طور پر پشتو زبان کی کتابوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا بک کېفې کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔ اپنی زبان، ادب، تاریخ اور فکر سے جڑے رہنا صرف کتاب پڑھنے کا عمل نہیں، بلکہ اپنی شناخت کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش بھی ہے۔
Yasir KhAan

https://www.facebook.com/share/1DjgtMagfK/?mibextid=wwXIfr

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Life in UK with Ahsan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share