18/08/2026
بیراجوں سے بہت پہلے: ریاست بہاولپور کی قدیم نہریں
آج جب ہم بہاولپور کی آبپاشی کا ذکر کرتے ہیں تو ذہن فوراً سلیمانکی، اسلام اور پنجند ہیڈورکس اور پھر ستلج ویلی پراجیکٹ کی طرف جاتا ہے۔ لیکن بہاولپور کی آبپاشی کی کہانی ان جدید منصوبوں سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔
برطانوی دور کے سرکاری ریکارڈ بتاتے ہیں کہ جب انیسویں صدی میں انگریزوں کی باقاعدہ نہری انتظام کاری یہاں پہنچی تو ریاست بہاولپور پہلے ہی ایک وسیع مقامی نہری نظام رکھتی تھی۔ یہ نہریں کسی جدید بیراج سے نہیں بلکہ دریاؤں کے قدرتی اتار چڑھاؤ اور سیلابی پانی سے چلتی تھیں اور عموماً inundation canals کہلاتی تھیں۔
1904 کے بہاولپور اسٹیٹ گزٹیئر اور دیگر تاریخی ریکارڈز سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامی حکمرانوں اور آبادی نے نسلوں سے دریاؤں کا پانی کھیتوں تک پہنچانے کے لیے متعدد نہریں کھودی ہوئی تھیں۔ بعض نہریں حکمرانوں یا اپنے بنانے والوں کے نام سے مشہور ہوئیں، جبکہ بعض نے قدرتی نالوں اور پرانے دریائی راستوں کو اپنا راستہ بنایا۔
یہ صرف چند کھالوں کا مجموعہ نہیں تھا۔ انیسویں صدی تک بہاولپور میں درجنوں نہریں موجود تھیں جو دریائے ستلج، چناب اور سندھ سے پانی لیتی تھیں۔ قائم واہ، خان واہ، مبارک واہ، بہاول واہ اور فضل واہ جیسے نام آج بھی اس قدیم نہری روایت کی یاد دلاتے ہیں۔
ان نہروں کا انحصار دریاؤں کے سیلاب پر تھا۔ دریا چڑھتا تو پانی نہروں میں داخل ہو کر کھیتوں تک پہنچتا، اور دریا اترتا تو نہریں بھی خشک ہوجاتیں۔ اسی لیے پرانے نظام میں نہری آبپاشی کے ساتھ کنوؤں اور دوسرے مقامی ذرائع کا بھی اہم کردار تھا۔
اس قدیم نظام کی ایک تاریخی اہمیت ایسی ہے جس پر آج کم توجہ دی جاتی ہے۔ برطانوی دور کے ریکارڈ میں واضح طور پر ملتا ہے کہ بہاولپور میں کاشت کاری کو ممکن بنانے میں چناب اور ستلج کے ساتھ دریائے سندھ بھی اپنا حصہ ڈالتا تھا۔ یعنی جدید بیراجوں کی تعمیر سے بہت پہلے بہاولپور کے دریائی خطے میں سندھ کے پانی سے وابستہ مقامی آبپاشی موجود تھی۔
آثارِ قدیمہ کے ممتاز ماہر سر اوُرل اسٹین Sir Marc Aurel Stein نے بھی ہاکڑہ کے قدیم راستے کے قریب ایسی پرانی inundation canals کا ذکر کیا ہے جو دریائے سندھ سے پانی لاتی تھیں۔ ان میں مبارک واہ بھی شامل تھی۔
یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ اس زمانے کا دریائی جغرافیہ آج سے مختلف تھا۔ دریائے سندھ نے مختلف ادوار میں اپنا راستہ بدلا۔ پرانے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ ایک زمانے میں سندھ دریائے چناب سے اُچ کے مقابل آکر ملتا تھا، جبکہ بعد میں اس نے اپنا راستہ تبدیل کیا۔ پرانی دریائی گزرگاہیں بعد میں نالوں اور آبپاشی کے راستوں کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہیں۔
اسی لیے انیسویں صدی کے کسی ریکارڈ میں جب کسی نہر کو دریائے سندھ سے وابستہ بتایا جاتا ہے تو اسے آج کے نقشے پر موجود دریائے سندھ کی لکیر سے سمجھنا درست نہیں۔ اس دور کا دریائی منظرنامہ زیادہ متحرک تھا اور دریا کے بدلتے راستے خود آبپاشی کے قدرتی راستے بن چکے تھے۔
پھر بیسویں صدی میں آبپاشی کی دنیا بدل گئی۔
1922 کے بعد Sutlej Valley Project نے بہاولپور کے قدیم سیلابی نہری نظام کو ایک نئے انجینئرنگ ڈھانچے میں ڈھالنا شروع کیا۔ فروزپور، سلیمانکی، اسلام اور پنجند پر ہیڈورکس تعمیر ہوئے اور پانی کو زیادہ منظم اور قابلِ اعتماد انداز میں استعمال کرنے کا راستہ کھلا۔
1931 کی مردم شماری کے مطابق پنجند کینال کا مقصد بہاولپور کی ان پرانی inundation canals کی آبپاشی کو محفوظ اور وسیع کرنا تھا جو چناب اور سندھ سے پانی لیتی تھیں۔
یعنی جدید نہری نظام نے بہاولپور میں آبپاشی شروع نہیں کی تھی؛ اس نے ایک پہلے سے موجود آبپاشی کی روایت کو ایک نئے، زیادہ منظم نظام میں تبدیل کیا۔
بہاولپور کی نہری تاریخ کو یوں سمجھا جاسکتا ہے: پہلے مقامی حکمرانوں اور آبادی نے دریاؤں کے سیلابی پانی کو کھیتوں تک پہنچانے کے لیے نہریں بنائیں، پھر برطانوی دور میں ان نہروں کی صفائی، توسیع اور تنظیم ہوئی، اور بالآخر ستلج ویلی پراجیکٹ نے ہیڈورکس اور باقاعدہ نہری نظام کے ذریعے اس پورے منظرنامے کو بدل دیا۔
یہ تاریخ ہمیں ایک اہم بات یاد دلاتی ہے: دریاؤں کی تاریخ صرف آج کے نقشے کی تاریخ نہیں ہوتی۔ دریا اپنے راستے بدلتے رہے ہیں، اور انسان نے ان بدلتے راستوں کے ساتھ اپنی بستیاں، کھیت اور نہریں آباد کی ہیں۔
بہاولپور کی قدیم نہریں اسی تاریخی تسلسل کی گواہی ہیں۔ بیراجوں اور جدید نہروں سے بہت پہلے یہاں کے لوگوں نے دریاؤں کے مزاج کو سمجھ کر پانی کو زمین تک پہنچانے کا فن سیکھ لیا تھا۔ آج کے عظیم نہری نظام کے پیچھے صرف جدید انجینئروں کی محنت نہیں بلکہ ان مقامی حکمرانوں، کسانوں اور آبپاشی کے ماہر لوگوں کی صدیوں پرانی کاوش بھی شامل ہے۔
Research, Writing & Compilation: Farooq Ahmed, Deputy Director, Strategic Planning & Reform Unit, Punjab Irrigation Department