17/08/2026
17 اگست:
73 دنوں سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں حکمران طبقات کی مراعات اور عوام کو بنیادی حقوق صحت، تعلیم، روزگار اور حق اختیار مانگنے پر جس بربریت کا سامنا کر پڑ رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی-
پاکستانی فورسز کی اسٹریٹ فائرنگ سے سو سے ذائد پرامن افراد شہید ہو چکے ہیں، ہزارواں ذخمی ہوئے جنھیں فرسٹ ایڈ سے بھی محروم رکھا گیا، ہسپتال پر فورسز کا قبضہ ہے- شوکت نواز میر اور توصیف جرال سمیت ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے-
لاقانونیت کی وہ انتہا ہے جسے بیان کرنا مشکل ہے- چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی، لوگوں کے گھروں سے مرغیوں اور مال مویشیوں کی ڈکیتیاں اور راولاکوٹ شہر جو پچلے 73 دنوں سے مکمل پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں ہے وہاں دکانات کی لوٹ مار کی گئی- جنھوں نے عوام کے جان و مالُ کی حفاظت کا حلف لیا ، عوام کے ٹیکسز سے وہ تنخواہ لیتے ہیں مگر آج وہ پاکستانی فورسز کے ساتھ مل کر ان ااری ڈکیتیوں میں شامل ہیں -
حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ دھونس ، دھاندلی سے مظفرآباد اسمبلی میں پہنچ کر وہ اپنی پرانی ریت جاری رکھیں گے تو یہ کسی طور اب ممکن نہ ہے-
کشمیری عوام نے اپنا وقت ، اپنا مال اور اپنی جانیں قربان کرنے کے باوجود سوا دو ماہ میں جس استقامت کا مظاہرہ کیا وہ ہماری نسلوں کیلئے مزاحمتی درس اور قابل فخر ہے-
ہم نے یہ عہد کر رکھا ہیکہ اپنے عظیم شہداء کے مقدس لہو کے خون سے غداری کے مرتکب نہ ہوں گے اور جدوجہد کے اس سفر سے کسی صورت دستبردار نہ ہوں گے- حکمران دھونس دھاندلی کے ذریعے اب مزید عوام پر مسلط نہیں رہ سکتے، عوام ان لٹیروں کو مسترد کر چکے ہیں-
تسلیم شدہ مطالبات پر عمل درآمد ہی عوامی مسائل کا حل ہے-
آج کے دن ہم اپنے عظیم شہداء، شوکت نواز میر، توصیف جرال سمیت ہزاروں جبری طور پر گمشدہ کئے گیے تحریکی ساتھیوں اور اس تحریک کے ہزاروں زخمیوں سمیت دنیا بھر میں بسنے والے مظلوم و محکوم جموں کشمیر کے شہریوں کی لازوال جدوجہد پر اُن سب کو سلام پیش کرتے ہیں
جدوجہد کا یہ سفر رائیگاں نہ جائے گا اور ہم سب مل کر اپنی نسلوں کیلئے ایک بہتر، باوقار مستقبل بنانے میں اللہ کی مدد و نصرت سے ضرور کامیاب ہوں گے انشاء اللہ