14/08/2026
*بھادوں 🙂
آج 13 اگست ہے۔ ساون اپنی آخری انگڑائیاں لے کر رخصت ہو رہا ہے۔ اور دیکھو، تمام مہینوں کی اکلوتی لاڈلی "بھادوں" آسمان پر چڑھ کر بانگیں دینے کو تیار ہے۔
بھادوں اگر مہربان ہو کر برس جائے تو اسے "ماں" کا درجہ مل جاتا ہے۔ ٹھنڈی پھوار، پروا کی ہوا، اور دل کو بھا لینے والی ٹھنڈک۔
اور اگر روٹھ جائے تو بس پھر یہ روایتی "پھوپھو" بن جاتی ہے۔ حبس، گھٹن، پسینہ... ادھر کجا ادھر کجا!
جو بیچارہ اس کی تپش میں پھنس گیا، اسے ۔۔۔اے۔سی کے بغیر سکوں پھر کہاں۔
بھادوں کو حبس اور بارشوں کا مہینہ کہتے ہیں۔ اس کی ایک جھڑی گرمی کا زور توڑ دیتی ہے، اور ایک بند ہوا سانس تک گھونٹ دیتی ہے۔*
*بھادوں دیسی کیلنڈر کا چھٹا مہینہ ہے۔ 16 اگست سے 15 ستمبر تک یہ ساون کے بعد راج کرتا ہے۔
یہ مون سون کی آخری ادا ہے۔ کبھی گھنگھور گھٹائیں، کبھی تپتی دھوپ۔
بارش ہو تو مٹی کی خوشبو، نہ ہو تو حبس کا ایسا راج کہ پنکھا بھی ہار مان جائے اور انساں کیا چرندپرند بھی چیخ اٹھے۔
* #. لوک ادب میں بھادوں*
لوک شاعری کہتی ہے:
_"بھادوں سال دی اکلوتی دھی اے،
کدی نخریلی، کدی مہربان بنی اے۔
کدی جھڑی لا دیوے، کدی اگ برساوے،
پھوپھو دا روپ وی اوہدے کول اے، ماں دا روپ وی اوہدے کول اے
کسان کے لیے بھادوں رحمت ہے۔ دھان کی بالیاں، مکئی کے سٹے، سب اسی کی بارشوں کے محتاج ہیں۔ اگر بھادوں برس گیا تو فصل سنور گئی، ورنہ ساری محنت بجلی کے بل بھرنے میں غارت۔
*خلاصہ:*
بھادوں دو رنگی مہینہ ہے۔ برستا ہے تو "ماں" جیسی شفقت، اور سوکھا رہ جائے تو "پھوپھو" جیسا طعنہ۔
اس لیے دعا یہی ہے کہ بھادوں برسے بھی، اور پروا کی ہوا بھی چلے... تاکہ نہ حبس ستائے، نہ اے سی کی ضرورت پڑے۔
#بھادوں