06/01/2026
پاکستان کی لائیو اسٹاک نسل کشی کا المیہ
بخدمت؛ جناب جنرل سید عاصم منیر صاحب (چیف آف آرمی اسٹاف - COAS)
* جناب شہباز شریف صاحب (وزیراعظم پاکستان)
* چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ
* ڈاکٹر غلام مرتضیٰ اندرابی (اینیمل ہسبنڈری کمشنر، پاکستان)
* اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (SIFC)
🚨 1. ہوش ربا حقیقت: سالانہ 15 لاکھ جانوروں کا قتلِ عام
پاکستان کی تاریخ میں لائیو اسٹاک کے خلاف ایسی معاشی دہشت گردی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی:
* یومیہ ذبیحہ: روزانہ 4,000 قیمتی جانور ذبح کیے جا رہے ہیں (1,700 نوزائیدہ کٹے/کٹیاں اور 2,300 جوان مادہ بھینسیں و گائیں)۔
* سالانہ المیہ: یہ تعداد سالانہ 15 لاکھ (1.5 ملین) بنتی ہے۔ ہم ہر سال 15 لاکھ دودھ دینے والے اثاثوں کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہے ہیں۔
* نسل کشی کا ذمہ دار: اینیمل ہسبنڈری کمشنر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ اندرابی اور وزارتِ خوراک اس نسل کشی کے براہِ راست ذمہ دار ہیں، جن کی کرپشن اور خاموشی نے اس قتلِ عام کو تحفظ دیا ہے۔
📉 2. معاشی محرک: کسان کا دیوالیہ اور من مانی قیمتیں
یہ نسل کشی کسی شوق کا نتیجہ نہیں بلکہ اداروں میں موجود کرپٹ لوگوں کی معاشی دہشت گردی کا نتیجہ ہے:
* 6 لیٹر کی حقیقت: بھینس کی اوسط پیداوار محض 6 لیٹر ہے؛ جب کمشنرز اور ڈی سیز پیداواری لاگت (270 روپے) کے بجائے خواہشات کی بنیاد پر ریٹ (200 روپے) مقرر کرتے ہیں، تو کسان کے پاس جانور ذبح کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔
* 70 روپے کا ڈاکہ: دودھ کی قیمت میں حالیہ 70 روپے کی ظالمانہ کمی نے کسان کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ کٹّے کو دودھ پلانے کے بجائے اسے قصائی کو بیچنے پر مجبور ہے۔
📊 3. دستاویزی ثبوت: ADB اور کراچی ٹرانس کمپنی کا سروے
حکومت کے 20 سالہ جھوٹ کا پول ADB اور کراچی ٹرانس کمپنی کے سروے نے کھول دیا ہے:
* 53 فیصد کمی: کراچی کی کیٹل کالونی میں جانوروں کا 4 لاکھ سے کم ہو کر 1 لاکھ 89 ہزار رہ جانا ثابت کرتا ہے کہ کمرشل ڈیری سیکٹر دم توڑ رہا ہے۔ 2006 سے اب تک دکھائے گئے تمام سرکاری اعداد و شمار سراسر جھوٹ ثابت ہوئے ہیں۔
✅ ہمارے فوری مطالبات (Action Plan):
* ذبیحہ پر فوری پابندی: مادہ جانوروں اور نوزائیدہ کٹوں کے ذبیحہ کو فوری طور پر "قومی جرم" قرار دے کر ہنگامی پابندی لگائی جائے۔
* قیمت میں انصاف: دودھ کی قیمت کسان کی پیداواری لاگت اور "کٹّہ پالنے کے خرچے" کو شامل کر کے فی الفور بحال کی جائے۔
* کمرشل بچھڑا بچاؤ پروگرام: SIFC کے تحت بڑے شہروں کی کیٹل کالونیوں میں کسانوں کو کٹے پالنے کے لیے ہنگامی مراعات اور سبسڈی فراہم کی جائے۔
* احتساب: ڈاکٹر غلام مرتضیٰ اندرابی اور ان افسران کا محاسبہ کیا جائے جنہوں نے غلط اعداد و شمار دکھا کر قوم کو اندھیرے میں رکھا۔
اعلانِ برائے میڈیا:
ہم اس ADB اور کراچی ٹرانس کمپنی کی مکمل سروے رپورٹ دو دن بعد باقاعدہ طور پر میڈیا کے سامنے رکھیں گے۔
شاکر عمر گجر
مرکزی صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن (DCFA) پاکستان
فون نمبر: +923008281786
ای میل: [email protected]