Sajjad Hussain Rajput Cattle & Dairy Farm's

Sajjad Hussain Rajput Cattle & Dairy Farm's Obaid Iqbal, Nawaz Mahmoud, Aslam SARWAR.

30/10/2025

Masha ALLAH.♥️♥️♥️

لمپی اسکن ڈیزیز۔ ذاتی تجزیہ، تجربہ اور مشاہدہ۔اس موضوع پر میں پہلے دو پوسٹ دوستوں کی نظر کر چکا ہوں۔ پہلی پوسٹ میں اس مر...
11/10/2025

لمپی اسکن ڈیزیز۔ ذاتی تجزیہ، تجربہ اور مشاہدہ۔
اس موضوع پر میں پہلے دو پوسٹ دوستوں کی نظر کر چکا ہوں۔ پہلی پوسٹ میں اس مرض کا دیسی علاج تجویز کیا گیا تھا اور دوسری پوسٹ میں اس وبائی مرض کے بارے میں معلومات تحریر کی کہ اس وباء کا ظہور کس ملک سے شروع ہوا اور آہستہ آہستہ یہ تقریبا پوری دنیا کا چکر لگانے کے بعد 2021 میں پاکستان میں حملہ آور ہوئی۔ کہتے ہیں کہ اس وباء سے بچنے کا واحد طریقہ ویکسین ھے اور سائنس بھی یہی کہتی ھے۔
نومبر 2021 میں جب یہ وباء پاکستان پر حملہ آور ہوئی تو یہاں پر اسکی خاص ویکسین ناپید تھی۔ کچھ فارمرز جو تھوڑی بہت آگاہی رکھتے تھے انہوں نے ساوتھ افریقہ سے ایم ایس ڈی کمپنی کی بنی ہوئی اوریجنل ویکسین منگوائی اور اپنے جانوروں کو لگائی۔ ان فارمرز میں سے ایک میں بذات خود بھی تھا جس نے ڈاکٹر کو بلا کر یہ ویکسین اپنے تمام جانوروں کو لگائی تاکہ وہ اس مہلک بیماری سے محفوظ رہیں۔ مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا یعنی ویکسین لگانے سے پہلے میرے جانوروں میں کوئی بیماری نہیں تھی اور ویکسین لگانے کے بعد میرے آدھے جانوروں میں یہ بیماری پھیلی جس سے میری عقل دنگ رہ گئی اور میں وجہ کی تلاش میں لگ گیا کہ ایسا کیوں ہوا؟
بہت غور و خوص کرنے کے بعد اور سائنسی توجیہہ پرکھنے کے بعد میرے مشاہدہ نے مجھے بتایا کہ یہ بیماری گرم مرطوب موسم میں اپنا حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہوتی ھے چنانچہ جولائی کے آخری ہفتے میں اس کی ویکسین کرا لینا چاہئے اور نومبر کے مہینے میں اسکے جراثیم بھرپور قوت کے حامل ہوتے ہیں اور اس کی ویکسین میں اس بیماری کا جراثیم انوٹیٹڈ حالت میں زندہ جانور کے جسم میں داخل کیا جاتا ھے تاکہ وہ اس کے خلاف قوت مدافعت بنا لے۔ اس لئے نومبر کے مہینے میں لگائی گئی ویکسین نے الٹا اثر دکھایا یعنی صحتمند جانور کو بیمار کر دیا۔ دوسری جو وجہ میرے مشاہدہ میں آئی وہ یہ تھی کہ انجیکشن کی سوئیوں کو ڈاکٹر نے اسٹرالائز نہیں کیا اور نہ ہی ہر جانور کے لئے علیحدہ سیرینج استعمال کی۔ ایک جانور کو ویکسین لگانے کے بعد اسی سیرینج کو ویکسین کی بوتل میں ویکسین نکالنے کے لئے استعمال کرنا اور سارے جانوروں پر ایک ہی سیرینج استعمال کرنا بھی بیماری کے پھیلنے کا سبب بنا۔
جو جانور بیمار ہوئے ان کا علاج ڈاکٹر نے لانگ ایکٹنگ اینٹی بائیوٹکس اور اسٹرائیڈل اینٹی انفلیمینٹری سے کیا۔ جس کے نتیجے میں معمولی انفیکٹڈ جانور تو صحتیاب ہو گئے مگر درمیانی حالت والے جانوروں کی سوجھن میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔
جو جانور اس علاج سے ریزسٹنٹ دکھا رہے تھے ان پر ہومیوپیتھک طریقہ علاج کو اپنایا گیا مگر اسے بیماری کے بڑھاو کو روکنے کا اقدام سمجھا گیا جبکہ حقیقت میں بیماری کو اپنی قوت میں اضافہ کرتے دیکھا گیا اور ایک دو دن کے وقفے سے شدید ردعمل بھرپور دانوں کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔
اب لامحالہ صرف دیسی طریقہ رہ گیا تھا چنانچہ انڈین ریسرچ سے ایتھنو ٹریٹمنٹ آف لمپی اسکن ڈیزیز کو عملی طور پر اپنایا گیا اور اس علاج کو افادیت بخش جانا۔ اس مرحلہ وار علاج سے جانوروں کی خوراک بہتر ہوئی، بخار اترا، دانے جلد پھاڑ کر باہر نکلے پھر ان دانوں پر اسی مرحلہ وار علاج میں بتائے گئے مرہم کو زخم پر لگایا جس سے نہ صرف جلد ریپئر ہوئی بلکہ مرہم کے باقاعدہ استعمال سے اس پر بال بھی آئے۔
میں اپنا مشاہدہ یا تجربہ یہاں ختم کر دیتا تو مشاہدہ ادھورا رہ جاتا چنانچہ ایک بیل اور ایک گائے جو اس بیماری سے متاثر ہوئے تھے ان سے میں نے بریڈنگ بھی کی، گائے حاملہ ہوئی، بیل کے نطفہ میں بھی کوئی مسئلہ نہیں پایا گیا، بچہ بھی صحتمند پیدا ہوا اور گائے کی دودھ کی پیداوار میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ 2024 میں میں نے وہ گائے اور بچھڑا قربانی کے لئے اپنے مدرسے بھیجا اور اس گائے کا بچہ نظر نیاز کے کام آیا۔
جو کچھ میں نے اپنے تجربات اور مشاہدات سے علم حاصل کیا آج اس نیت سے آپ کی نظر کر رہا ہوں کہ شاید یہ میرے کسی فارمر بھائی کے کام آ جائے۔
آپ کا خیراندیش۔
خالد شفیع، اونر ایس ایم کیٹل فارم۔p

09/09/2025

چولستانی گائے کے بارے میں بہت سے دوستوں نے گراں قدر تحریریں لکھیں جو قابل ستائش ہیں مگر چولستانی بریڈ کا تعرف بغیر تاریخ چولستا کے ممکن نہیں ھے۔ آج میں اپنی تحریر کا آغاز اس شعر سے کروں گا
زندگی، زندگی کو ترستی ھے جہاں
چولستان میں مقیم ھے وہ جہان۔
چولستان بہاولپور کے جنوب میں 66 لاکھ 55 ہزار ایکڑ پر مشتمل دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ھے جس کا طول 480 کلومیٹر اور عرض 32 کلومیٹر سے 192 کلومیٹر ھے۔ مقامی افراد اسے روہی کہتے ہیں جبکہ تاریخ دان کے مطابق یہ ترکی زبان کے لفظ چول سے ماخوذ ھے جس کے معنی ریت کے ہیں۔
پرانے زمانے میں یہ خطہ ایک عظیم تہذیب کا حامل تھا یہاں سے دریائے ہاکڑہ گزرتا تھا جسے پڑوسی ملک میں دریائے گھاگھرا کہا جاتا تھا۔ آہستہ آہستہ دریائے ہاکڑہ کی تہذیب مٹتی چلی گئی۔ چالیس قلعوں کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں۔
اس لق و دق صحرا میں دو لاکھ سے زائد انسان بستے ہیں جن کے گزر اوقات کا واحد ذریعہ لائیو اسٹاک ھے۔ یہاں 112 اقسام کے پرندے، 118 اقسام کے رینگنے والے جانور، 13 لاکھ سے زائد مویشی جن میں گائیوں ،بھیڑیں، بکریاں اور اونٹ موجود ہیں۔
چولستانی گائے دنیا کی بہترین نسل میں سے ایک ھے جس کے آباواجداد کا تعلق ساہیوال نسل کی گائے سے بتایا جاتا ھے۔ ہاکڑہ دریا کے عروج کے زمانے میں یہ گائے 13 کلو ایک وقت میں دودھ دیتی تھی۔ جو اب بتدریج کم ہو کر بہت کم دودھ کی پیداوار پر آ گئی ھے۔
چولستانی گائے درمیانے قد کی مضبوط جسمانی ڈھانچے والی ہوتی ھے۔ اس کا رنگ سفید، خاکی، یا گہرا بھورا ہوتا ھے بعض ابلغ رنگ یا چینی پرنٹ کے ساتھ بھی ہوتی ہیں۔ یہ شدید گرمی، خشک سالی اور کم خوراک میں زندہ رہنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں
یہ دودھ اور گوشت دونوں کی پیداوار کے لئے موزوں گائے ھے۔
اچھی خوراک اور جینیاتی ترقی کو اس نسل پر آزما کر ہم بہترین دودھ دینے والی اور بہترین گوشت والی بریڈ رب کی رضا سے حاصل کر سکتے ہیں جسکے لئے یقینی طور عام کسانوں کو حکومتی معاونت درکار ھے یا ہوگی۔
میری دعا ہے کہ ہماری قابل تعریف و احترام حکمران اس طرف توجہ دیں ورنہ آنے والے زمانے میں ہم تنگی خوراک کا شکار ہو جائیں گے۔
آپکا خیراندیش۔
خالد شفیع اونر ایس ایم کیٹل فارم۔

26/08/2025

بکرے، دنبے اور بھیڑ کا آپس میں گہرا تعلق ھے، یہ سب جانور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں عام طور پر ریوڑ کی شکل میں پالا جاتا ھے۔ بھیڑ اور دنبہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ یہ سینگ والے بھی ہوتے ہیں اور بغیر سینگ کے بھی، دنبے کے سینگ مڑے ہوئے ہوتے ہیں جبکہ بھیڑ میں سینگ چھوٹے یا غیر موجود بھی ہو سکتے ہیں۔ بکرے کے سینگ بھی موجود اور غیر موجود بھی ہو سکتے ہیں۔
بکرے۔
بکرا عام طور پر پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ھے اور اسے گوشت اور دودھ کے لئے پالا جاتا ھے۔ سینگ موٹے یا منڈے ہوئے بھی ہو سکتے ہیں۔ بکرے کی کھال موٹی اور سخت ہوتی ھے۔ بکرے کی آواز مینہ مینہ جیسی ہوتی ھے۔
دنبہ۔
دنبہ بھیڑ کی ایک قسم ھے جو عام طور پر میدانی علاقوں میں پایا جاتا ھے۔ دنبے کے سینگ بڑے اور مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنبے کی کھال بھیڑ سے زیادہ موٹی اور سخت ہوتی ھے۔ دنبے کی آواز بھیڑ سے ملتی جلتی ہوتی ھے۔
بھیڑ ۔
بھیڑ ایک ایسا جانور ھے جو عام طور پر میدانی علاقوں میں پایا جاتا ھے اور اس بھیڑ کے بال اور گوشت کے لئے پالا جاتا ھے۔بھیڑ کے سینگ چھوٹے یا غیر موجود ہوتے ہیں۔ بھیڑ کی کھال نرم اور اونی ہوتی ھے۔ بھیڑ کی آواز ممیاتی ہوئی ہوتی ھے۔
بکری کے دودھ دودھ غذائیت سے بھرپور اور کئی طبی فوائد کا حامل ہوتا ھے۔ یہ ہاضمے کے لئے بہتر، جلد اور بالوں کی صحت کے لئے موثر اور قوت مدافعت کو بڑھاتا ھے۔اس میں گائے کے مقابلے میں چکنائی اور کولیسٹرول کم ہوتا ھے، جسکی وجہ سے یہ وزن کم کرنے اور دل کی صحت کے لئے بھی مفید ھے۔
بھیڑ یا دنبی کے دودھ میں کئی غذائی اجزاء اور صحت کے فوائد ہیں۔ یہ دودھ ہاضمے کو بہتر بنانے، قوت مدافعت بڑھانے اور ہڈیوں کو مضبوط کرنے میں مدد کرتا ھے۔ اس میں کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس کے علاوہ پروٹین کی مقدار بھی اچھی ہوتی ھے۔ بھیڑ کے دودھ میں الرجی پیدا کرنے والے اجزاء گائے کے دودھ کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ھے۔ بھیڑ کا دودھ جلد کے لئے بھی اچھا سمجھا جاتا ھے اور اس میں اینٹی آکسیڈینٹ بھی موجود ہوتے ہیں۔
قربانی کے حوالے سے ان تمام جانوروں کی عمر کی حد ایک سال مقرر ھے۔ تاہم کچھ علماء اور مشائخ دنبہ اور بھیڑ کی حد عمر چھ ماہ کو جائز قرار دیتے ہیں اگر اس چھ ماہ کے جانور کی جسامت کا حجم ایک سال کے جانور کے مساوی ہو۔
آپکا خیراندیش:
خالد شفیع اونر ایس ایم کیٹل فارم
پرو

26/08/2025

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars - they help me earn money to keep making content you love.

Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars!

08/08/2025

Khalid Shafi

03/08/2025

مررہ بھینس ایک مشہور اور دودھ دینے والی نسل ھے جو اپنے زیادہ دودھ کی پیداوار اور موٹی جسمانی ساخت کے لئے جانی جاتی ہیں۔ یہ نسل خاص طور پربھارت میں اور بہت کم تعداد میں پاکستان میں بھارتی بارڈر کے ساتھ کے علاقوں میں کہیں کہیں پائی جاتی ہیں۔ مررہ بھینسیں دیگر بھینسوں کے مقابلے میں زیادہ دودھ دیتی ہیں اور ان کا دودھ غذائیت سے بھرا ہوا ہوتا ھے۔
جسمانی ساخت میں مررہ بھینس موٹی اور مضبوط ہوتی ہیں۔ ان کا رنگ عام طور پر سیاہ ہوتا ھے۔ انکے سینگ مڑے ہوئے اور پیچھے کی جانب ہوتے ہیں۔
مررہ بھینس روزانہ 10 سے 20 لیٹر تک دودھ دے سکتی ہیں انکے دودھ چکنائی اور غذائیت سے بھرپور مانے جاتے ہیں۔
مررہ بھینسوں کو اچھی نشو و نما اور دودھ کی پیداوار کے لئے متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ھے۔ انہیں گھانس، چارہ، دالیں اور دیگر غزائی اجزاء فراہم کئے جاتے ہیں۔
مررہ بھینس ٹھنڈے اور صاف ماحول میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ انہیں پائی میں نہانا اچھا لگتا ھے
مررہ بھینس کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لئے حفاظتی ٹیکے لگوئے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ عام بیماریاں منہ کھور اور گردن توڑ بخار ہیں
خالد شفیع
اونر ایس ایم کیٹل فارم ۔
Khalid Shafi tahreer karday

24/07/2025

چند صدیوں میں بھینس ناپید ہوجائے گی۔
گزشتہ دس سال سے فارمنگ سے وابستہ رہ کر میں اِس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ چند صدیوں شاید رواں صدی کے آخر تک بفلو فارمنگ بطور کاروبار ختم ہوجائے گی اور گھوڑوں کی طرح امراء بطور شوق رکھا کریں گے۔آپ پوچھیں گے کیوں؟
👈جتنی مرضی کوشش کی جائے بھینس تین سال کی عمر کو پہنچ کر کراس ہوتی ہے اور بعض پانچ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ بچہ جنتی ہیں جبکہ cow فارمنگ میں ذیادہ تر بچھڑیاں تین سال کی عمر سے پہلے بچے کو جنم دے دیتی ہیں اور یوں ایک کٹی کے مقابلہ میں بچھڑی دو سال قبل پہلا سوا سو لیتی ہے ۔جِس دور سے ہم گزر رہے ہیں ہر کوئی ترقی کرنا چاہتا ہے ہر ایک کی خواہش ہے کہ وہ دِن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے اِس لیے ذیادہ تر فارمرز بفلو کی بجائے امپورٹڈ کائو فارمنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔
👈بھینس فارمنگ کی ناکامی کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی کے پاس پانچ یا پچاس جانور ہیں تو یومیہ اوسط دس کلو ہی ہوتی ہے جو کہ سالانہ ایوریج کو 7کلو یومیہ پر لے آتی ہے۔
میرے اپنے فارم پر ہر سال دو تین بھینسیں 20لٹر + والی ہوتی ہیں جبکہ ناچاہتے ہوئے بھی دس بھینسیں ایسی نکل آتی ہیں جو 8لٹر پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔نیز زیادہ تر ہائی ملکنگ بھینسوں کا زیادہ دودھ دینے کا دورانیہ کم ہوتا ہے اور زیادہ دودھ دینے والی بھینسیں پانچ ماہ کے حمل پر خشک بھی ہو جاتیں ہیں اور یوں شروع میں 22لٹر دینے والی بھینس جلد خشک ہوکر سالانہ اوسط کو 12لٹر یومیہ پر لے آتی ہیں۔
اس کے برعکس اچھی نسل کی گائے آسانی سے 20+کر جاتی ہیں اور ذیادہ تر گائے کو حاملہ ہونے پر خود خشک کرنا پڑتا ہے بعض گائے مسلسل کئی بیاہنتیں دودھ دیتی رہتی ہیں
👈12+لٹر دودھ دینے والی بھینس 200000+ میں ملتی ہے جبکہ اسی قیمت میں ملنے والی 20لٹر کے قریب پہنچ جاتی ہے
20لٹر والی بھینس زیادہ تر کسان فروخت ہی نہیں کرتے۔ 500000+- میں مل بھی جاتی ہیں جبکہ بھینس کے زیادہ دودھ دینے کی مدت دو ماہ سے زیادہ نہیں اس کے بعد اچھی سے اچھی بھینس بھی 16لٹر عبور نہیں کرتی۔۔۔زیادہ تر 12پر ہی بریک لگالیتی ہیں۔اس کے برعکس امپورٹڈ گائے 40لٹر کا حدف بھی عبور کرجاتی ہیں۔
👈ایک دودھیل بھینس 50کلو تک چارہ کھا جاتی ہے جبکہ پچاس کلو سے 2گائے سیر ہو جاتی ہیں۔
12کلو دودھ بھینس کو 7کلو ونڈہ کھلانا پڑتا ہے جبکہ گائے 7کلو ونڈا کھا کر 15کلو دودھ کرجاتی ہے
👈منہ سڑی ساڑو ناڑ گلٹی جیسی بیماریاں ذیادہ تر بھینسوں کو لگتی ہیں جبکہ گائے دس کے مقابلہ میں پانچ متاثر ہوتی ہیں۔
👈اگر خدانخواستہ بھینس پانچ یا سات ماہ کا حمل گرا دے تو دودھیل نہیں ہوتی ۔مجبوراٙٙ کسان کو ایک سال انتظار یا پھر قصاب کو فروخت کرنا پڑتی ہے جبکہ گائے سات ماہ میں اسقاط حمل کے باوجود دودھیل ہوجاتی ہے اور تقریباٙٙ 20لٹر والی گائے 15لٹر تک کرجاتی ہے۔

⛔ایسا کیوں ہوتا ہے۔
دنیا میں ہر کاروبار وقت کے ساتھ بدلتا گیا حتٰی کے ذراعت بھی جدید اصولوں پر استوار ہوگئی۔حکومتوں کے دھیان دینے سے گندم کی پیداوار 15من فی ایکڑ سے 80من عبور کرگئی یہی حساب دیگر فصلوں کا ہے۔کم پیداوار والے بیجوں کا تدارک حکومتی سطح پر عمل میں لایا گیا اور اچھے بیجوں کو ذمینداروں تک پہنچایا گیا ۔جبکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کیلئے کی جانے والی ہمارے ہاں کی کوششیں دفتروں تک محود رہیں یہی وجہ ہے بھینس کی ایوریج پانچ لٹر سالانہ سے بڑھ نہ سکی جو کہ گندم کے حساب سے کم از کم 25لٹر یومیہ ہونی چاہیے تھی۔ترقی یافتہ مملک ڈیری میں تبدیلیاں اور جدت لاتے لاتے دس لٹر والی گائے کو 100لٹر یومیہ تک لے گئے جب کے ہمارے ہاں آج بھی نیلی/ راوی/ کنڈی کی بحث جاری ہے کام کیا ہوا؟ زیرو
گوشت کے میدان میں دنیا میں فی جانور پیداور چالیس من عبور کر گئی جبکہ ہمارے ہاں رنگوں کی تمیز نہ ہو سکی ہمارے ہاں کوئی نسل ساہیوال ہے تو کوئی ریڈ سندھی لاکھ کوششوں کے باوجود پیداور 100سال پرانی۔۔۔۔
آخر کیوں؟ حکومتی عدم توجہی
⛔کیا اب بھی بقا ممکن ہے؟
#ہاں
صرف اور صرف
بریڈ کو بہتر بناکر
وہ بھی حکومتی سطح پر۔اور ہر سال نئی بریڈ لا کر پرانی کو رفتہ رفتہ بدلا جائے وگرنہ ہر جگہ امریکن فریژن کے فارم ہونگے اور ہمارے پوتے/پڑپوتے اپنے بچوں کو تصویر دکھا کر بتایا کریں گے ہمارے بڑے اس جانور کا دودھ پیا کرتے تھے۔
Tahreer by Khalid Shafi

23/07/2025

Sindhi Kundhi Buffalo – Pakistan کی مشہور نسل

📍 علاقہ:
سندھی کُنڈھی بھینس (Sindhi Kundhi Buffalo) پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھتی ہے، خاص طور پر سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ، خیرپور، اور دادو کے اضلاع میں یہ نسل عام پائی جاتی ہے۔

---

🔹 اہم خصوصیات:

1. رنگ:
زیادہ تر کالی یا بھورے سائے میں، کبھی کبھار سفید دھبے بھی۔

2. سینگ (Kundhi):
سینگ نیچے کی طرف مڑے ہوئے ہوتے ہیں، اسی وجہ سے اس نسل کو "کُنڈھی" کہا جاتا ہے۔

3. دودھ کی پیداوار:

اوسط دودھ: 10 سے 15 لیٹر روزانہ

اچھی خوراک اور نگہداشت کے ساتھ 18 لیٹر تک بھی جا سکتی ہے

دودھ میں چکنائی (Fat): 6% سے 10% تک – دہی، مکھن، گھی کے لیے بہترین

4. جسمانی ساخت:

مضبوط اور درمیانے سائز کا جسم

جلد چمکدار اور چکنی

اچھی تولیدی صلاحیت

5. موسم کے لحاظ سے مطابقت:

سندھ کے گرم موسم میں بھی اچھی کارکردگی

مقامی حالات کے مطابق خود کو آسانی سے ڈھال لیتی ہے

---

🔹 فائدے:

✅ کم دیکھ بھال میں زیادہ دودھ
✅ مقامی بیماریوں کے خلاف مدافعت
✅ دیسی گھی اور دہی کے کاروبار کے لیے مفید
✅ کسانوں کی عام پسند

---

🔹 کسانوں کے لیے مشورہ:

اگر آپ سندھ یا جنوبی پنجاب کے کسان ہیں، اور دیسی دودھ کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، تو سندھی کُنڈھی بھینس ایک
بہترین انتخاب ہے۔
Copy paste from Khalid Shafi post

Address

Renala Khurd

Telephone

+923051129897

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sajjad Hussain Rajput Cattle & Dairy Farm's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sajjad Hussain Rajput Cattle & Dairy Farm's:

Share

Category