19/04/2024
عجب رنگ ہیں برپا عالم میں جا بجا اب
ہو رہا ہے وہ مجھ سے رفتہ رفتہ جدا اب
پوچھتے کیا ہو میرے ہم نشین سکوں کا
نہیں رہا کہیں چمن میں کوئی مزا اب
چھوڑنے پے آؤں تو چھوڑ دوں اسے
مگر میں سہ نہیں پاؤنگا کوئی سزا اب
ہوئی جب گرفت غموں کی تو جانا
نہیں بھری دنیا میں اپنا اپنے سوا اب
میں رہا تو درد میں کانپ اٹھے گا زمانہ
بہتر ہے کہ یارب تو لے مجھے اٹھا اب
ستم تو ستم ہی ہوتا ہے سعد
کیسے کہوں ہر سزا کو بھلا ادا اب