08/10/2025
*“کھلے دودھ کا جرم — یا پیک شدہ دودھ کی چال؟”*
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کچھ عرصے سے ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔ ہر ٹی وی اسکرین، ہر اشتہار اور ہر بینر پر ایک ہی نعرہ سننے کو ملتا ہے — “کھلا دودھ مضرِ صحت ہے، صرف پیک شدہ دودھ استعمال کریں!”
سوال یہ ہے کہ آخر کس بنیاد پر؟
دیہی علاقوں کے وہ دودھ فروش، جو نسلوں سے خالص دودھ پہنچا رہے تھے، اچانک مجرم بنا دیے گئے۔ ان پر چھاپے، ان کے کنٹینر غیر قانونی طور پر ہائی جیک کر لیے گئے، دودھ سڑکوں پر بہا دیا گیا — اور یہ سب عوامی صحت کے نام پر! مگر کبھی کسی نے پوچھا کہ جن کی فیکٹریوں کے ٹٹرا پیک میں وہی skimmed milk powder اور vegetable fat بھرا ہے، انہیں “خالص دودھ” کہنے کی اجازت کس قانون نے دی؟
یہی دودھ جب یورپ، خلیجی ممالک یا امریکا میں بنتا ہے تو اسے “recombined milk” کہا جاتا ہے، جو وہاں کی فوڈ اتھارٹیز سے مکمل منظور شدہ ہے۔ وہی فارمولا جب پاکستان میں تیار ہوتا ہے تو اسے "کیمیائی دودھ" بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ کیا عوام کو گمراہ کرنا فوڈ اتھارٹی کا کام ہے؟
پانی والا دودھ یقیناً ناقص ہے، لیکن “ *مضرِ صحت* ” کہنا سائنس کے منہ پر طمانچہ ہے۔ دودھ میں اگر صرف پانی شامل ہو تو وہ معیار کھو دیتا ہے، زہر نہیں بن جاتا۔ مگر افسوس کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے “ *اصلاح* ” کے بجائے “ *تباہی* ” کا راستہ چنا۔
اصلاح یہ تھی کہ کولڈ چین سسٹم متعارف کرایا جاتا، کسانوں کو تربیت دی جاتی، یا لیبارٹریوں کے ذریعے دودھ کی کوالٹی چیک کی جاتی۔ لیکن اس کے بجائے پورے نظام کو ختم کر کے چند بڑی پیکنگ کمپنیوں کو راستہ دیا جا رہا ہے۔
*سچ یہ ہے کہ کھلے دودھ کے نام پر ایک نیا کاروباری کھیل کھیلا جا رہا ہے*
سوال یہ نہیں کہ دودھ کھلا ہے یا پیک، بلکہ سوال یہ ہے کہ “ *حقیقت کس نے اور کیوں چھپائی ہے* ؟”
---
*پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کھلے دودھ کے خلاف مہم — سائنسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ*
1. پس منظر
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق کھلا دودھ مضر صحت ہے کیونکہ اس میں ملاوٹ (پانی، سکمڈ ملک پاؤڈر اور ویجیٹبل آئل وغیرہ) پائی جاتی ہے۔
تاہم، کھلے دودھ کے پورے نظام کو غیر قانونی قرار دینا سائنسی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ملاوٹ اور غیر محفوظ نقل و حمل کے مسئلے کا حل ضابطہ سازی ہے، نہ کہ مکمل پابندی۔
---
2. پنجاب فوڈ اتھارٹی کا متضاد بیانیہ
پنجاب فوڈ اتھارٹی ایک طرف “پانی والا دودھ” کو مضر صحت قرار دیتی ہے، اور دوسری طرف skimmed milk powder + vegetable fat سے تیار شدہ recombined milk کو “کیمیکل دودھ” کہتی ہے۔
یہ مؤقف سائنسی بنیادوں سے خالی ہے کیونکہ:
Skimmed milk powder خشک شدہ قدرتی دودھ ہے، جس سے صرف چکنائی نکالی گئی ہوتی ہے۔
Vegetable fat جیسے palm یا coconut fractions، یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی (EFSA) اور کوڈیکس الیمنٹریئس کے مطابق انسانی استعمال کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
Codex Standard 207-1999 کے تحت recombined milk ایک تسلیم شدہ، قانونی اور محفوظ پراڈکٹ ہے۔
لہٰذا، پنجاب فوڈ اتھارٹی کا اسے “کیمیکل” کہنا سائنسی لحاظ سے گمراہ کن ہے۔
---
3. بین الاقوامی قوانین اور مثالیں
*ری کمبائنڈ دودھ کی قانونی حیثیت اتھارٹی / معیار*
یورپی یونین : منظور شدہ (EU Directive 1308/2013) EFSA
سعودی عرب : مکمل قانونی، تجارتی پیمانے پر فروخت SFDA
متحدہ عرب امارات : قانونی اور عام استعمال میں ESMA
آسٹریلیا / نیوزی لینڈ : (Food Standards Code 2.5.1) FSANZ
یہ ممالک اپنی فوڈ انڈسٹری میں ری کمبائنڈ دودھ کو معیار کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں اسی فارمولے کو “ *جعلی دودھ/کیمیکل والا دودھ/سفید محلول* ” کہنا ایک سائنسی بددیانتی ہے۔
---
4. پنجاب فوڈ اتھارٹی کا طرزِ عمل اور قانونی سوالات
اکثر کارروائیاں بغیر ٹیسٹ رپورٹ کے کی جاتی ہیں۔
نتائج عوام کے سامنے پیش نہیں کیے جاتے۔
ٹینکرز کو پکڑ کر دس دس گھنٹے روک کر دودھ کو جان بوجھ کر خراب کر دیا جاتا ہے
کھلے دودھ کے پورے نظام کو “غیر قانونی” قرار دینا فوڈ ایکٹ 2011 کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ قانون "اصلاح" کا اختیار دیتا ہے، "خاتمے" کا نہیں۔
---
5. نتیجہ اور سفارشات
کھلے دودھ کو بند کرنے کے بجائے:
کوالٹی ٹیسٹنگ لیبز قائم کی جائیں۔
کولڈ چین سسٹم متعارف کرایا جائے۔
فیلڈ سپلائرز کو لائسنس اور تربیت دی جائے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کو اپنے بیانیے میں سائنسی درستگی لانی چاہیے نا کہ گمراہ کن بیانیہ جائے، کیونکہ دودھ عوام کی بنیادی غذائی ضرورت ہے، کاروبار نہیں۔
---
اختتامیہ
کھلے دودھ کے خلاف اندھی کارروائیوں سے نہ صرف لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر ہوتا ہے بلکہ سچائی بھی دب جاتی ہے۔
اصلاح کی راہ وہی ہے جو سائنسی، شفاف اور عوام دوست ہو — نہ کہ وہ جو اشتہارات کے بل بورڈز پر اچھی لگے۔