16/04/2026
سیاست محض ایوانوں میں گنی جانے والی نشستوں کا کھیل ہی نہیں، بلکہ اصل طاقت اُس اثر میں پوشیدہ ہوتی ہے جو قومی فیصلوں کی سمت متعین کرے۔ مولانا مولانا فضل الرحمان اسی اثر اور تسلسل کا نام ہیں۔
وہ نہ حکومت کا حصہ ہیں، نہ کسی اتحادی بندھن میں جکڑے ہوئے، اور نہ ہی پارلیمنٹ میں ان کی جماعت کا عددی حجم کوئی فیصلہ کن اکثریت رکھتا ہے۔ مگر اس کے باوجود داخلی و خارجی قوتوں کا مسلسل اُن کی جانب رجوع کرنا اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ سیاست کا اصل مرکز ہمیشہ ایوانوں کے اندر ہی نہیں ہوتا، کچھ مراکز ایوانوں سے باہر بھی قائم ہوتے ہیں، اور مولانا اُن ہی مراکز میں سے ایک ہیں۔
امریکہ اور چین جیسے عالمی کھلاڑیوں کے سفارتی وفود ہوں، یا سعودی عرب اور ایران جیسے بااثر ممالک کے نمائندگان، ہر ایک کی حاضری اس در پر نظر آتی ہے۔ فـ ـلــســطــیـ ـن اور حـ ـمـ ـاس کی قیادت سے ملاقاتیں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مولانا کا کردار محض قومی نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی تناظر رکھتا ہے۔
داخلی سیاست میں بھی یہی نقشہ نمایاں ہے۔ صدرِ مملکت سے لے کر وزیر اعظم تک، وفاقی وزراء سے لے کر ریاستی اداروں کے ذمہ داران تک، سب کی آمد و رفت اس بیٹھک کو ایک غیر رسمی مگر مؤثر سیاسی مرکز بنا چکی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو نہ کسی انتخابی نتیجے کا مرہونِ منت ہے اور نہ کسی سرکاری عہدے کا، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط جدوجہد، فکری پختگی اور عوامی و سیاسی اعتماد کا حاصل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اب اقتدار کے روایتی تکلفات سے بہت آگے جاچکے ہیں۔ وہ پاکستان کی سیاست کی ایک ایسی مسلمہ اور ناگزیر حقیقت بن چکے ہیں جو محض موجود نہیں بلکہ اس وقت مرکزیت کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ایسے کردار وقت کے دھارے کے ساتھ نہیں بہتے، بلکہ خود دھارے کا رخ متعین کرتے ہیں۔