26/07/2026
شہادت کا پہلے سے سب کو بتا دینا
ایسی شہادت آج تک نہ دیکھی نہ سنی ہوگی
ون کمانڈو محمد تحسین خان شہید نے اپنی شہادت کی تیاریاں خود سے کر رکھیں تھیں
یہ وہ تصویر ہے جسے محمد تحسین خان شہید نےخود تیار کروا کر اپنے دوست کو دیتے وقت کہا تھا کہ جب میں شہید ہوگیا تو یہ تصویر میرے تابوت ساتھ لےکر جانا
مگر آپریشن کی وجہ سے اور اپنے دوست کا بدلہ لینے میں مصروف دشوار گزار علاقے سے پہنچنا انتہائی مشکل تھا جس کی وجہ سے انکا دوست نہیں آسکا
مگر جیسے ہی آپریشن سے واپس پہنچا تو فوراً اپنے دوست سے وعدہ پورہ کرنے کے لیے اپنے ساتھ تصویر لیے دوست کے گھر آپہنچا اور شہید کے ماں باپ کو سلام پیش کرتے ہوئے یہ تصویر ان کے ہوالے کر دی ۔
محمد تحسین شہید کا بیٹا اپنے باپ کی تصویر کے ساتھ کھیلتا دیکھ کر فوجی کمانڈو تحسین شہید کے دوست زارو قطار رونے لگے اور خود پر قابو نہ رکھ پائے۔
محمد تحسین خان شہید کے والد نے اُنہیں حوصلہ دیا اور ہمت دی یہ کہتے ہوئے کہ “ میرا شیر شہید ہوا ہے میرا شیر بہادر زندہ ہے شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں”
جب محمد تحسین خان شہید کے چھوٹے بھائی مبین خان جو خود وہ بھی آرمی میں ہے جب اُسنے بھائی کی تصویر دیکھی تو سب ضبط ٹوٹ گئے ۔
اپنے بھائی کی تصویر سینے سے لگائے زارو قطار روتے ہوئے چھت پر بھاگ گیا اور گھنٹوں اپنے بھائی کےلیے آنسو بہاتا رہا۔
تحسین خان نے اپنے ملک کی خاطر اپنے ملک کے امن و امان کی خاطر ملک دشمنوں پر جھپٹا اور پانچ د ہش ت گردوں کو ہلا* ک کرتے ہوئے اور اپنے ساتھ موجود میجر اور دو دوستوں کو محفوظ بنایا
محمد تحسین خان شہید کے دوستوں کا کہنا تھا اگر تحسین ہمت اور بہادری سے نہ لڑتا تو ہمارے بہت سے جوان شہید ہو جاتے، سنائپر شوٹر جو کئی میٹر دوری سے نشان بنا کر حملا آور تھا اس کے فائر سے شہید ہوا
جبکہ اس سنائپر کو 5 گھنٹوں کے طویل آپریشن کے بعد مردار کردیا گیا اور اس پورے علاقے کو کلیئر کروا لیا، محمد تحسین نے اپنا حق اور فرض ادا کر کے دلیری کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔
کچھ لوگ تنقید کرتے ہیں اور شہداء کا مذاق بنانے کی گھٹیا کوشش کرتے ہیں اُن سے اتنا ہی کہنا ہے کہ اگر تم محب وطن ہو تو اپنے بچوں کو پیسے کےلیے لاؤ اور قربان کرو
اور اپنے حلالی بچوں میں یہ جذبہ اور شہادت سے عشق و بہادری و دلیری کا جذبہ پیدا کر کے دکھانا پھر آکر ہم سے بات کرنا
تحسین خان نے ایک عظیم شہادت نوش کی ہے اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا