05/03/2026
بہت سے لوگ نر بکرے/بُو بکرے (buck) کو اپنے ہی چہرے پر پیشاب کرتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ حقیقت میں کیا ہو رہا ہوتا ہے- یہ گندگی نہیں ہے، یہ پاگل پن بھی نہیں ہے- یہ تولیدی حیاتیات (reproductive biology) ہے- ملاپ کے موسم (breeding season) کے دوران نر میں ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور ایک بات جو بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اپنے چہرے، داڑھی اور اگلی ٹانگوں پر پیشاب کر کے وہ اپنے آپ کو اپنی ہی مخصوص بُو سے بھر لیتا ہے- اس بُو میں ایسے کیمیائی مرکبات اور فیرومونز (pheromones) ہوتے ہیں جو مادہ کو متحرک کرتے ہیں- ہمیں یہ عمل ناگوار لگ سکتا ہے لیکن ایک مست (heat میں موجود) مادہ بھیڑ/بکری کے لیے یہ واضح اشارہ ہوتا ہے کہ یہ نر ملاپ کے لیے تیار ہے- اس کا تولیدی عضو لمبا اور پتلا ہوتا ہے، جو اس نسل کی ایک خاص جسمانی ساخت (anatomical adaptation) کی وجہ سے ہے- جب ھم فطرت میں جا کر اس بات کو سمجھ لیتے ہیں تو پھر اسے گھناؤنا نہیں سمجھتے- بات یہ نہیں کہ نر گندا ہے بلکہ یہ کہ فطرت کے اپنے نظام ہوتے ہیں، جنہیں ہم ہمیشہ مکمل طور پر نہیں سمجھ پاتے-