29/04/2026
🎯موجودہ دور میں ایک اور فتنہ
◀️آج ہمارے معاشرے میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے
جو خود کو کسی فرقے سے منسوب نہیں کرتا
یہ لوگ بظاہر “آزاد سوچ” یا “سچ کی تلاش” کے دعویدار بنتے ہیں
مگر دراصل ان کا مقصد اللہ کے دین میں بگاڑ پیدا کرنا
اور ایمان والوں کے دلوں میں شک ڈالنا ہے
🌀یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے وجود کو نہیں مانتے
◀️آخرت کا انکار کرتے ہیں
اور کہتے ہیں کہ “یہی دنیا سب کچھ ہے مرنے کے بعد کچھ نہیں
↙️یہ نظریہ قرآن کے انکار کے مترادف ہے
کیونکہ
☑️اللہ فرماتا ہے:
“اور اگر تمہیں تعجب ہو تو تعجب کی بات ان کا یہ کہنا ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو
کیا ہم پھر نئی زندگی میں اٹھائے جائیں گے؟
(سورۃ الرعد: 5)
📢یہ لوگ اپنے خیالات کو “عقل” اور “آزادی” کے نام پر پیش کرتے ہیں
↩️مگر دراصل یہ اللہ کے دین سے لوگوں کو دور کرنے کے لیے ایک خطرناک منصوبہ رکھتے ہیں
ان کا مقصد بےحیائی کو عام کرنا، دین کو مذاق بنانا اور ایمان والوں کے ذہنوں میں شک پیدا کرنا ہے
⭕یہ چھپا ہوا گروہ پہچاننا آسان نہیں
کیونکہ یہ دین کی بات بھی کرتا ہے مگر نیت میں فساد رکھتا ہے
کبھی فلسفے، کبھی سائنس، کبھی آزادی کے نام پر
ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے
💢القرآن:
”ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری بڑھا دی
اور ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
(سورۃ البقرہ: 10)
🌀ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں
کیونکہ فتنوں کے اس دور میں صرف وہی بچ سکتا ہے
جو علم، صبر اور استقامت کے ساتھ اللہ کے دین پر قائم رہے
⚫القرآن:
”جو شخص اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے گا
وہ یقیناً سیدھی راہ پاگیا۔
(سورۃ آل عمران: 101)
🚫اللہ ہمیں ایسے فتنوں سے محفوظ رکھے
حق کو حق سمجھنے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی بصیرت دے۔