RICE HOUSE Trading CO.

RICE HOUSE Trading CO. Salling fine brand rice nd food stuff.

05/11/2024

ایک گھر میں تین ڈاکو گھس آئے۔
خاتون سے کہنے لگے!
ہم آپ کے گھر کی ترتیب خراب نہیں کرنا چاہتے اور آپ کو نقصان بھی نہیں پہنچانا چاہتے اس لئے ہم یہاں صوفے پہ بیٹھے ہیں۔
جو بھی نقدی اور زیورات ہیں وہ یہیں لے آؤ۔

خاتون نقدی اور زیورات لے آئیں ۔۔۔ ڈاکووں کا سرغنہ کہنے لگا:
اور وہ ہیرے کی انگوٹھی کہاں ہے
جو تمہارے خاوند نے شادی کی سالگرہ پر تحفہ میں دی تھی؟

وہ چپ چاپ گئی اور
وہ انگوٹھی لا کر اُنہیں دیدی۔۔۔

وہ گھڑی بھی لیتی آؤ جو تمہاری بہن نے دوبئی سے بھیجی تھی۔۔۔

بہن کا دیا ہوا تحفہ ان کے حوالے کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔

اب ہم لوگ
"نیس کیفے" کی انسٹنٹ کوفی پئیں گے اور
آپ سے اجازت چاہیں گے۔۔۔

کافی پیتے ہووئے سرغنہ بولا
اب وہ کل کا بچا ہؤا
"پائن ایپل کیک"
بھی لیتی آؤ۔۔۔

سب سامان ہاتھ میں لئے جانے لگے تو خاتون نے ہچکچاتے ہوئے کہا!
آپ لوگ انتہائی پیشہ ور
با اخلاق ڈاکو ہیں،
آپ کو ہمارے گھر کی اندر کی باتوں کا کیسے علم ہؤا؟

ڈاکووں کے سرغنہ نے اپنے چہرے پر نقاب درست کرتے ہوئے کہا؛ محترمہ، ہم آپ کے فیس بک فرینڈز ہیں
اور باقاعدگی سے آپکی پوسٹیں پڑھتے ہیں اور سٹیٹس چیک کرتے رہتے ہیں۔کاپی

13/10/2024

میں سوچ رہی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام نے مدین کی ایک لڑکی میں ایسا کیا دیکھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے دس سال اس کے مہر کے طور پر گزار دئیے۔۔۔۔؟

*مجھے اس کا جوابـــــ اللـــــہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ملا:*🍁
*`"تمشي على استحياء*
اللہ تعالیٰ نے اس کے قد کاٹھ یا شکل کو بیان نہیں کیا بلکہ اس میں پائی جانے والی سب سے قیمتی چیز کو بیان کیا، جو کہ *"حیا"* ہے ۔۔
*حیا ایک قیمتــی خزانہ ہــے*

*افسوس کہ کچھ عورتــوں اور لڑکیــوں نــے اس خزانے کو کھــو دیا ہــے___||•*🎗️🌿

13/10/2024

‏عربوں کی ایک عادت رہی ہے۔
جب ان کے گھوڑے زیادہ ہوجاتے اور ان کی نسلوں کی پہچان ممکن نہ رہ پاتی تو سبھی گھوڑوں کو کسی ایک مقام پر جمع کر لیتے۔ پھر کھانا پینا بند کر دیتے اور شدید قسم کی مارپیٹ کرتے۔ مار پیٹ کے بعد پھر گھوڑوں کے لئے کھانا پینا لاتے، تب گھوڑے دو مجموعوں میں بٹ جاتے تھے۔ کچھ گھوڑے تو فورا دوڑتے کھانے کی طرف، انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا تھا کہ کھلا پلا کون رہا ہے مارا کس نے ۔۔
اور دوسرے تھے نسلی گھوڑے،
جو ان ہاتھوں سے کھانا کھانے سے انکار کر دیتے تھے جن ہاتھوں نے مار پیٹ کر کے ان کی توہین کی تھی۔ ان کی عزت نفس کو پامال کیا ۔۔۔۔

انسانی معاشروں کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے
اور بدقسمتی سے بدنسلوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے

11/10/2024

***جہلم کے نگینےلوگوں کی یادیں ***

بڑے میاں حلوائی، لڈن کیفے۔بیٹھو جی بیٹھو ہوٹل بابو کی قلفی ملا کے چنے اور چوک گنبد والی کے گول گپے چاندنی چوک جاوے پہلوان کے کباب ۔ لودھی کے پان مینے کے خوش ذائقہ کباب جو رات گئے تک میسر تھے اور بٹ کباب کی کڑاہی 50 روپے میں روٹیاں سلاد اور بچہ گھر تک چھوڑ کے جاتا تھا آیک روپیہ ٹپ کے چکر میں کھانا ختم ہونے تک خدمت کرتا رہتا تھا چائے کی ایک پیالی کے عوض آپ اپنے دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گفتگو کے مزے لے سکتے تھے ۔
ریلوے اسٹیشن کا چائے خانہ آخری پوائنٹ تھا۔ جہاں رات گئے تک چائے میسر تھی،
اس زمانے میں ادبی تقریبات کا مرکز اقبال لائبریری ٹاؤن ہال یا شاندار چوک کے قریب آیک آفس میں تقریبات منعقد ہوتی تھی۔
جہلم کے مرحوم شاعروں جوگی جہلمی، تنویر سپرا، اقبال کوثر، مختار جاوید، طالب قریشی، ، مومن علی حیدری، عزیز دہلوی کی شاعری کا پورے ملک میں ڈنکا بجتا تھا۔ جہلم کی زندگی کا ایک بہت خاص پہلو مولوی مجید ملنگ کی ذاتِ سے جڑا ہوا تھا۔ جو جہلم کے بچوں اور بڑوں کی ذہنی سطح بلند کرنے میں لازوال کردار سمجھے جاتے ہیں۔
مولانا عبدالغفور ۔مولانا لطیف صاحب کی لطافتیں اور نوک جھونک مذاکرے۔ مباہلے جلسے جلوس عیدمیلادالنبی کی محبتوں سے بھری محافل مولوی صادق کی گرجدار تقاریر.. کیا بات تھی اس دور کی
فلمی تفریحات کے لئے پیراڈائز سینما، ناز سینما، ریجنٹ سینما پرنس سینما تھے جہاں شرفائے جہلم اپنی فیملیز کے ساتھ فلم دیکھنے جاتے، میٹنی شوز میں گھریلو خواتین اور نوجوان لڑکیوں سے ہاؤس فل ہوتا، لڑکیاں بالیاں اپنی پڑوس اور کالج کی سہیلیوں کے ساتھ بے خوف خطر فلمیں دیکھتیں مگر کبھی کسی قسم کی بیہودگی یا خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی شکایت سننے میں نہیں آتی تھی۔
ایک چلتا پھرتا گشتی سینما شیشہ گراؤنڈ میں مفت فلمیں بھی دکھاتا تھا مگر اس کے ساتھ سرکاری پراپیگنڈہ فلمیں بھی بالجبر دیکھنا پڑتی تھیں۔
شیشہ گراؤنڈ میں پورے پنجاب سے ٹیمیں فٹبال میچ کھیلنے آتی تھیں۔ مشین محلہ نمبر 3 کے شیخ اسلم اور انکے سارے بھائی فٹبال کے نامی گرامی کھلاڑی تھے۔
جہلم کا 50 سالہ پرانا کلچر جہلم میں کچھ ڈاکٹر اور نیم ڈاکٹر صاحبان کا ذکر کیئے بغیر ادھورا رہے گا۔ مشین محلہ نمبر ایک میں ڈاکٹر مظفر شاہ کا کلینک اور پھر مشین محلہ نمبر دو میں ڈاکٹر دوست محمد شبلی کا کلینک عام مریضوں کے لیئے پنا گاہ تھے۔ مشین محلہ نمبر 3 میں ایک نیم ڈاکٹر رحمان صاحب ساری رات ایمرجنسی سروس مہیا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر بسماللہ ڈاکٹر بسی والے بھی ہزاروں غریب لوگوں کا علاج کرنے کو موجود رہتے۔ امراء کے لیئے مرزا ہسپتال شاندار چوک اور ڈاکٹر کرنل خواجہ کے کلینک اہمیت رکھتے تھے۔

ان دنوں گرمیوں میں گھر کے دالان صحن اور چھتوں پر سونے کا عام رواج تھا کھڑکیاں کھلی رکھی جاتیں جن سے فراٹے بھرتی ھوا پورے گھر کو فیضیاب کرتی، چوری چکاری، اسٹریٹ کرائمز ڈاکے کلاشنکوف جیسی چیزوں کا نہ ڈر تھا اور نہ کوئی تصور تھا۔
مشین محلہ کا کلچر پیراغائب سے اور پیرا غائب کا کلچر جادہ سے مختلف تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ قبرستان کو شہر سے باہر تصور کیا جاتا تھا جس کا ثبوت قبرستان سے آگے کی بستیوں کو باقاعدہ ڈھوک کہا جاتا تھا، ڈھوک عبداللہ ڈھوک جمعہ وغیرہ اسی کلچر کی نشانیاں ہیں۔
مشین محلہ نمبر 2میں دو گامے بہت مشہور تھے گاماں بوتلاں والے جو سوڈے کی بنٹے والی بوتلوں کے علاوہ دودھ سوڈا کی رنگ برنگ لزیز ٹھنڈی بوتلیں موقع پر بھر کر بیچتے تھے ۔ دوسرے گاماں کا بوتلوں والے گاماں کے سامنے افیون کا ٹھیکہ تھا۔ اس گاماں کی مونچھیں بہت رعبدار تھیںاور وہ گاماں مچھاں والا کے نام سے بھی مشہور تھے۔ مشین محلہ میں آغا فضلکریم ٹمبر مرچنٹ کا ڈیرہ اور اس سے ذرا پیچھے ریلوے گراونڈ کی طرف رانگڑ اپنے انداز کا ڈیرہ سجا کے رکھتے تھے۔ مشین محلہ منگلا ڈیم بننے تک اپنی آرہ مشینوں کی گن گھرج اور دیار کے خوشبودار بورے سے مہکا رہتا تھا۔

پھر محرم آتا تو طالب جوہری ۔محسن نقوی کی مجلسوں اور شہدائے کربلا کے اذکار سے جہلم کی گلییوں میں سوگواروں کے جھمگھٹے لگ جاتے، سبیلیں لگتیں لڑکے لڑکیاں سیاہ لباس پہنے ایک گھر سے دوسرے گھر مجالس میں شریک ھونے جاتے۔کھیر کی ٹھوٹیاں وافر بانٹی جاتی تھیں۔

اسلامیہ سکول کے سامنے ایک وکیل صاحب کے دفتر میں بزم فیض سجائی جاتی ۔ پاکستان بھر سے دانشور خصوصاً سرخے ادیب صحافی اور شاعر سیاسی سماجی اور دینی موضوعات پر خوب سینگ پھنساتے۔ اس محفل میں ڈاکٹر وکیل پروفیسر دوکاندار بزنس مین بطور فیشن شرکت کرتے۔ اس محفل کا اختتام فیض احمد فیض کے کلام پر ہوتا۔

وہ چراغ اب دھواں ہوگئے ہیں، وہ زمانے رفتگاں ہو گئے ہیں، آج یہ سب باتیں ایک خواب سا لگتی ہیں مگر جو لوگ ان سنہرے برسوں میں جہلم کی اس گولڈن لائف کا حصہ رہے ہیں وہ آج بھی ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اس یادگار دور کو یاد کرتے ھیں اور گنگناتے ھیں کہ۔۔
*میرے جہلم تیرے دریا کے اب بھی*
*میری آنکھوں سے گہرے رابطے ہیں*

*ضروری نوٹ۔ یہ مضمون یا یاداشت ایک مسلسل مضمون ہے۔ اس میں کئی احباب کی کاوش شامل ہے۔۔ جہلم کے سب پڑھے لکھے لوگ اس مضمون میں اپنی طرف سے اضافہ کر سکتے ہیں۔ دعوت عام ہے*

06/10/2024

*اپنی حفاظت کیجئے*
〰️〰️🍃💕🍃〰️〰️

_*شیخ ابن عثیمین رحمہ الله فرماتے ہیں*:🌹⁦♥️⁩🌹_

*اگر تمھیں نظر بد لگ جائے تو اس کامطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ تم بہت حسین یا بہت مالدار ہو۔*
*بلکہ۔۔۔۔!*
*تم اللّٰــــــــہ کے ذکر میں کمی کرنے والے ہو ۔۔۔ پس تم صبح و شام کے اذکار کے ذریعہ اپنے نفسوں اور اپنے گھر والوں کی محافظت کرو ۔*
*صبح و شام کے اذکار ضرور کیا کریں*

*اپنی روٹین کا جائزہ لیجیے... صبح و شام کے اذکار.... ہماری انسانی اور شیطانی نظروں سے حفاظت کرتے ہیں*.

19/08/2024
11/08/2024

تعلیمی اداروں کے سربراہان سے گزارش ہےکہ 14 اگست کی تقریبات میں بچیوں سے ڈانس نہ کروائیں یہ ملک اس چیز کے لئے آزاد نہیں ہوا تھا.

05/08/2024

کسی زمانے میں ایک غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تو اس سے پوچھا گیا کے اسلام کی کس بات نے تجھے متاثر کیا.
تو وہ بولا کہ صرف ایک واقعہ میری ہدایت کا سبب بن گیا.
کہا مجلس رسول صلہ اللہ علیہ وسلم لگی ہوئی تھی لوگوں کا ہجوم تھا.
ایک شخص نے عرض کی حضور میرے لیے دعا کر دیں میرا بچہ کئی دنوں سے مل نہیں‌رہا مل جائے.
قبل اس کے کہ حضور کے ہاتھ اٹھتے ۔۔۔۔
ایک شخص مجلس موجود تھا کھڑا ہو گیا حضور میں ابھی ابھی فلاں باغ سے گزر کر آیا ہوں .
اس کا بچہ وہاں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا.باپ نے جب سنا کے میرا بچہ فلاں باغ میں ہے تو اس نے دوڑ لگا دی.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو روکو واپس بلاو۔۔
اس نے کہا حضور آپ جانتے ہیں کے ایک باپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں.کہا اچھی طرح سے آگاہ ہوں.. لیکن تمہیں بلایا ہے بلانے کا بھی ایک مقصد ہے. اس نے کہا جی حضور ارشاد فرمائیں.
کہا جب باغ جاؤ بچوں کے ساتھ اپنے بچے کو کھیلتا ہوا دیکھ لو تو بیٹا بیٹا کہہ کر آوازیں نا دینے لگ جانا.
جو نام رکھا ہے اس نام سے پکارنا کہا حضور میرا بیٹا ہے اگر میں بیٹا کہ کر بلاؤں تو ہرج بھی کیا ہے.
فرمایا تم کئی دنوں کے بچھڑے ہو تمہارے لہجے میں بلا کا رس ہو گا
اور تم نہیں جانتے کے کھیلنے والوں میں کوئی یتیم بھی ہو.
اور جب تم اپنے بیٹے کو بیٹا کہہ کر پکارو گے اتنا میٹھا لہجہ ہو گا تو اس کے دل پر چوٹ لگے گی اور کہے گا کاش آج میرا بھی باپ ہوتا مجھے بیٹا کہ کر پکارتا.فرمایا یہ شوق گھر جا کر پورا کرنا.
آپ نے فرمایا کسی بیوہ کے سامنے اپنی بیوی سے پیار نہ کرو،غریب کے سامنے اپنی دولت کی نمائش کرنے سے روکا گیا.
حضور صل اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کے اپنے گوشت کی خوشبو سے اپنے ہمسائے کو تنگ نا کرو.

29/07/2024

مشہور فٹبالر میراڈونا سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا رول ماڈل کون ہے؟ انہوں نے کہا جب تمھاری آنکھوں کے سامنے تمھارے باپ نے محنت مزدوری کر کے تمہیں پالا ہو تو پھر کسی اور کو اپنے لیے رول ماڈل سمجھنا بدتمیزی اور بے وقوفی ہے۔

26/07/2024

*مٹھائی اور کیک کی غیر صحت مند روایت کو ختم کریں*

"میں نے اس کے گھر جاتے ہوئے بیکری پرگاڑی روکی۔۔۔پشاوری کیک کی قیمت معلوم کی۔۔
مجھے بیکری میں داہنی دیوار کے ساتھ دودھ کے ڈبے رکھے نظر ائے۔۔
*آدھا کلو دودھ کے بارہ ڈبے تھے ایک کارٹن میں۔۔۔۔ جس قیمت میں کیک تھا اسی میں یہ کارٹن۔۔۔*
یونہی خیال آیا کہ۔۔ *کیک کون سی صحت مند چیز ہے دودھ کے ڈبے لے لیے جائیں۔۔*
دوست بظاہر تو متوسط ہے لیکن اس وقت تو مہنگائی نے ہر کس وناکس کی کمر توڑی ہوئی ہے۔۔۔
میں نے کارٹن گاڑی میں پچھلی سیٹ پر رکھا اور فیڈرل بی ایریا اپنے بچپن کے دوست کے گھر چلا گیا۔۔
میں نے دروازے پر کال بیل دے کر سیٹ سے کارٹن اٹھا کر اس کے حوالے کیا تو وہ چونک گیا۔۔۔۔
میں نے کہا" میں کچھ اور لا نہیں سکا یہ گاڑی میں پڑا تھا سوچا چلو تمہارے کام ا جائے گا۔"

*دوران گفتگو اس کے حالات کا جان کر بہت افسوس ہوا فیصل چار بچوں کا باپ ہے۔۔*
اس نے کہا :" *ہمارے گھر دو کلو دودھ روز آتا تھا۔۔ لیکن پچھلے چھ ماہ سے ایک کلو کر دیا ہے ۔۔۔اب میرا چھوٹا ڈیڑھ برس کا بیٹا دودھ سے محروم ہوگیا* ۔۔

بجلی کے بل اتنے زیادہ ہیں سارا مہینہ خوف میں گزرتا ہے کہ بجلی کا بل نہ معلوم کتنے کا آجائے۔۔۔۔اس پر اشیائے خوردنوش تک پراتنے ٹیکس۔۔۔جو سودا سلف اس مہینے دس ہزار کا لاؤ وہی اگلے ماہ پندرہ ہزار کا۔ "

بیٹے نے فون پر کہا:"آپ اس پر لکھیے گا کہ *ہم جب کسی کے گھر مہمان جاتے ہیں تو کیک اور مٹھائی جیسی غیر صحت مند اور مہنگی چیزوں سے چھٹکارا پائیں اس وقت سب سے قابل رحم سفید پوش طبقہ ہے۔۔"۔*

آپ کا جس سے جتنا قریبی تعلق ہوتا ہے اس کو تحفہ دینا اسان ہوتا ہے۔۔۔جیسے تھوڑے تکلف والے رشتوں میں شہد اور اچھی کھجور تحفے کے طور پر دے جاسکتی ہے۔۔۔۔جو قریبی لوگ ہوتے ہیں ان کو فریش فروٹ دیے جا سکتے ہیں۔۔۔
*کیک کی قیمت میں بیڈ شیٹ آجاتی ہے جن کی سارا سال سیل لگتی رہتی ہے* ۔۔۔
لیکن وہ آپ کو پہلے سے اسٹاک رکھنا ہوتا ہے۔۔جاتے ہوئے گاڑی روک کر اس طرح کی خریداری نہیں ہوسکتی۔۔۔
*بحثیت خاتون خانہ ہمارے شعور کا امتحان ہے کہ ہم اپنے پیسے اس چیز پر خرچ کریں جو دوسرے کے کام ائے ۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ان رسوم ورواج کو بدلنا چاہیے ۔۔۔۔*
*ہر دور کے تقاضے فرق ہوتے ہیں۔۔۔*
مجھے تو اچھا لگتا ہے جب میری بہن کسی کے گھر جاتی ہے تو گھر کے کسی بچے کے ہاتھ میں لفافہ تھما دیتی ہے کہ ۔۔۔راستے میں کوئی بیکری نظر نہیں پڑی تم سب آئس کریم منگا کر کھا لینا۔"

پیسوں سے دنیا کی چیز خریدی جاسکتی ہے۔ہم غریب ملک ہیں۔۔
کسی کے گھر جانے کی,اس کا حق ادا کرنے کی اللہ نے آپ کو توفیق دی ۔۔اللہ سے یہ توفیق بھی طلب کیجیے کہ وہ آپکوآسانی تقسیم کرنے کی حکمت عطا فرمائے۔۔۔آمین

Address

Ateeka Riyadh Ksa
Riyadh
ARRIYADHBATHAA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RICE HOUSE Trading CO. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category