Maasairs Updates/ماسیرز اپڈیٹس

Maasairs Updates/ماسیرز اپڈیٹس Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maasairs Updates/ماسیرز اپڈیٹس, Grocers, D, 2 gh456 Ws UK, Londonderry, NH.

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے مورخہ 29 اپریل 2026 کو جاری کردہ اپنے پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ قائد حزب اختلاف جناب ...
04/29/2026

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے مورخہ 29 اپریل 2026 کو جاری کردہ اپنے پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ قائد حزب اختلاف جناب شاہ غلام قادر کی جانب سے الیکشن کمیشن کے روبرو ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر الیکشنز ایکٹ 2020 کے تحت انتخابی فہرستوں کے شیڈول کے اجراء کے بعد بھی حکومت آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے تبادلوں و تقرریوں کا سلسلہ جاری ہے، جو متعلقہ قوانین و ضوابط کے منافی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مالی مشکلات کے باوجود مختلف ترقیاتی و دیگر پیکجز کا اعلان انتخابی عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جو قبل از انتخاب دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر اور پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعظم کو ہدایت جاری کی ہے کہ مذکورہ درخواست پر حکومت کا مؤقف حاصل کر کے تین ایام کے اندر اندر تبصرہ الیکشن کمیشن کو ارسال کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ یہ بات ترجمان آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے ایک پریس ریلیز میں بتائی۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر نے مزید رابطہ کے لیے فون نمبر 05822-921399 بھی جاری کیا ہے۔

*معزز سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کا جہلم ویلی محکمہ صحت عامہ کی جونیئر ٹیکنیشن تقرریوں کے کیس میں اہم فیصلہ دیا*  *...
02/28/2026

*معزز سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کا جہلم ویلی محکمہ صحت عامہ کی جونیئر ٹیکنیشن تقرریوں کے کیس میں اہم فیصلہ دیا*
*اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی؛ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے جونیئر ٹیکنیشن (BPS-9) کی تقرریوں سے متعلق ایک اہم مقدمے میں اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ آزاد کشمیر کا فیصلہ برقرار رکھا۔ یہ فیصلہ جناب چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جناب جسٹس رضا علی خان اور جناب جسٹس خالد یوسف چوہدری بھی شامل تھے۔کیس ضلع جہلم ویلی میں محکمہ صحت عامہ کی جونیئر ٹیکنیشنز کی تقرریوں سے متعلق تھا۔پٹیشنزز(نوید ناصر اور دیگر) کو محکمہ صحت کی جانب سے جاری اشتہار اور تقرری آرڈرز کے تحت تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم بعض امیدواروں نے ان تقرریوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، مؤقف اختیار کیا کہ تقرری کا عمل قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ہائی کورٹ آزادکشمیر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جونیئر ٹیکنیشن (BPS-9) کی تقرری کا اختیار سروس رولز کے مطابق BPS-19 کے افسر کو حاصل ہے، جبکہ اشتہار اور تقرری آرڈرز BPS-18 کے ایسے افسر نے جاری کیے جو صرف اضافی چارج پر فائز تھے۔ عدالت نے اس بنیاد پر تقرریوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔سپریم کورٹ میں پٹیشنزز کے وکیل نے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ اسامیوں کا باقاعدہ اشتہار دیا گیا۔سلیکشن کمیٹی بنی، میرٹ لسٹ تیار ہوئی۔امیدواروں نے سروس جوائن کی اور انہیں ایک حق حاصل ہو چکا تھا۔اضافی چارج رکھنے والا افسر تقرری کا اختیار استعمال کر سکتا تھا۔دوسری جانب جواب دہندگان کے وکیل نے کہا کہ اسامی سروس قواعد واضح طور پر تقرری کا اختیارBPS-19افسر کو دیتے ہیں۔اضافی چارج کسی افسر کی قانونی حیثیت نہیں بدلتا۔جب اشتہار ہی غیر مجاز اتھارٹی (جونیئر سکیل کے آفیسر) نے جاری کیا تو پورا عمل غیر قانونی ہو جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے تفصیلی حکم میں قرار دیا کہ محض اضافی چارج دینے سے کسی افسر کو وہ قانونی اختیار نہیں ملتا جو قواعد مخصوص طور پر کسی خاص گریڈ کے لیے مقرر کرتے ہیں۔اگر تقرری کا ابتدائی مرحلہ ہی دائرہ اختیار کے بغیر ہو تو اس کے بعد کی تمام کارروائی بھی غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔کسی غیر قانونی عمل کی بنیاد پر کوئی قانونی حق پیدا نہیں ہوتا، چاہے امیدوار سروس جوائن کر چکے ہوں۔ایسے معاملات میں "ایسٹاپل" (یعنی بعد میں اعتراض نہ کرنے کا اصول) لاگو نہیں ہوتا۔معززعدالت عظمیٰ نے یہ بھی قرار دیا کہ ہائی کورٹ آزادکشمیر کے فیصلے میں کوئی قانونی غلطی یا دائرہ اختیاری خرابی موجود نہیں، اور نہ ہی یہ معاملہ عوامی اہمیت کے کسی بڑے سوال پر مشتمل ہے جس کے لیے مزید سماعت ضروری ہو۔سریم کورٹ نے اپیل کی درخواست مسترد کر دی، یوں ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہا اور جونیئر ٹیکنیشنز کی مذکورہ سکیل بی-9 کے 47 جونئیر ٹیکنیشنز کی تقرریاں ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دی تھیں۔یہ تمام تقرریاں بدستور کالعدم رہیں۔فیصلہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ سرکاری تقرریوں میں متعلقہ سروس رولز کی مکمل پابندی ضروری ہے اور اضافی چارج رکھنے والا افسر مستقل تقرری کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ فیصلہ آئندہ کے لیے ایک اہم قانونی مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔*

Address

D, 2 Gh456 Ws UK
Londonderry, NH

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maasairs Updates/ماسیرز اپڈیٹس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category