Kosar Irfan Short

Kosar Irfan Short behind the scenes best page please saport me thanks for follow all the best

*میں سائکاٹرسٹ کے پاس بیٹھا تھا . بیگم کے کہنے پہ کئی دن سے ٹائم لیا ہوا تھا اس لئے انہیں ملنے چلے آیا*کیا مسئلہ ہے آپ ک...
08/24/2026

*میں سائکاٹرسٹ کے پاس بیٹھا تھا . بیگم کے کہنے پہ کئی دن سے ٹائم لیا ہوا تھا اس لئے انہیں ملنے چلے آیا*

کیا مسئلہ ہے آپ کو ؟ تفصیل سے زرا بتائیں .
میں آنکھیں بند کئے چت لیٹا ماضی کی طرف سفر کرنے لگا اور میری زبان سے الفاظ پھوٹنے لگے . . .
سب ٹھیک تھا . میں اپنے آفس میں مصروف رہتا اور نوشین یونیورسٹی میں لیکچرار تھی . بچے سکول کالج سے آکر اکیڈمی چلے جاتے اور پیچھے گھر میں صرف اماں اور نوکرانی ہوتی تھیں . اماں کافی بیمار رہنے لگیں تھیں . اکثر ایسا ہوتا کہ اماں کی رات کو طبیعت خراب ہو جاتی اور ہم انہیں لیکر ہسپتال چلے جاتے جہاں چار پانچ گھنٹے کے ٹریٹمنٹ کے بعد ہمیں فارغ کر دیا جاتا . جب یہ اکثر ہونے لگا تو میری اور نوشی کی ورک روٹین خراب ہونے لگی . راتوں کو دیر سے جاگنے کی وجہ سے ہم دونوں متاثر ہو رہے تھے . ان ہی دنوں ایک دن نوشی نے مجھے کہا ...
" سنئے اماں کی وجہ سے ہم دونوں کو خاصی ڈسٹربنس ہو رہی ہے . کیوں نا ہم انہیں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آئیں ؟"
یہ سننا تھا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی اور غراتے ہوئے میں نے پوچھا کہ " تم نے یہ سوچا بھی کیسے ؟ جانتی بھی ہو ابو کی ڈیتھ کے بعد اماں نے مجھے کیسے پال پوس کر بڑا کیا ."
" آپ بھی نا جزباتی ہو جاتے ہیں . میں تو صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ شہر میں بیسیوں اولڈ ایج ہوم ہیں . ہم کسی اچھے سے پرائیویٹ اولڈ ہوم کا انتخاب کریں گے جہاں میڈیکل کی بھی سہولیات ہوں تاکہ خدانخواستہ رات کو تو ہم یہاں ہوتے ہیں اگر دن میں اماں کی طبیعت بگڑ گئی تو کیا کرے گی کام والی نجمہ ؟ آپ ایک دفعہ مسز عباسی نے جو اولڈ ہوم پروجیکٹ شروع کیا ہے وہ دیکھ آئیں ."
" اچھا فی الحال اپنی بکواس بند کرو اور مجھے پڑھنے دو ."
میں نے عینک سیدھی کی اور پھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گیا لیکن میرا دماغ بار بار مسز عباسی کے بنائے اولڈ ایج ہوم کی طرف جا رہا تھا .
اگلے دن اتوار تھا اور صبح ہی صبح میں گاڑی لیکر شہر کے اس پوش علاقے کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ اولڈ ایج ہوم تھا . گاڑی پارک کر کے میں اس شاندار اور پرشکوہ بنگلے کی طرز پہ بنی اس عمارت میں داخل ہو گیا جہاں میرا استقبال پودوں کو پانی دیتی مسز عباسی نے خود کیا . اس دن میں نے وہ ساری عمارت گھوم پھر کر دیکھی جہاں میرے ذہن کے مطابق واقعی ہی بوڑھے لوگوں کے لئے جنت تعمیر کی گئی تھی . صاف ستھرا ماحول , بڑا سا سرسبز لان , پرشکوہ ڈسپنسری جہاں ہر وقت ایک ڈاکٹر طعینات رہتا تھا اور اولڈ ایج ہوم کی اپنی دو اینمبولینسز کے علاوہ وہاں زندگی کی ہر سہولت فراہم کی گئی تھی .
مسز عباسی سے فیس وغیرہ پوچھی تو چودہ طبق روشن ہو گئے . لیکن اماں کے آرام کے لئے مجھے وہ مناسب لگے . اب صرف اماں سے پوچھنا باقی رہ گیا تھا .
رات کو اماں کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا وہ بیٹھیں بڑے بڑے لفظوں والا قرآن پڑھ رہیں تھیں . میں کمرے میں داخل ہوا تو انہوں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا اور مسکرائیں . میں چپ چاپ پہلو میں آکر بیٹھ گیا . اماں کا حال احوال پوچھا اور پھر چُپ ہوگیا . سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ بات کو کیسے شروع کروں . یہ مشکل اماں نے خود ہی آسان کر دی .
" کی ہو یا پتر ؟ پریشان لگ رہے ہو ؟ "
" جی بس آپ کی وجہ سے ہی پریشانی تھی , کیسی طبیعت ہے اب ؟ "
" میں ٹھیک ٹھاک تو ہوں . مجھے کیا ہونا ہے ؟ بس یہ کمبخت مارا بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ."
" اماں ایک مشورہ کرنا تھا آپ سے ... "
" بول پتر ."
" اماں میں ایک جگہ دیکھ کر آیا ہوں ."
میں نے ہکلاتے ہوئے بولنا شروع کیا .
" وہ آپ کی رہائش کے لئے بہت مناسب ہے . وہاں مجھے یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ آپ گھر میں اکیلی ہیں یا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ٹھاک ہے . وہاں ڈاکٹر چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے . ماحول بھی صاف ستھرا ہے ."
" اماں کے چہرے پہ رقصاں مسکراہٹ تھم گئی تھی . ایک دفعہ ماتھے پہ بل پڑے اور پھر مسکرا دیں . پتر مجھے بھی کافی دن سے محسوس ہو رہا تھا کہ تم لوگوں کو کافی ڈسٹرب کر رہی ہوں . ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں . جیسے میرا لعل خوش ویسے میں خوش . "
اماں نے مسکراتے ہوئے میرا ماتھا چوما اور میں کمرے سے نکل آیا . میرا ضمیر اس بے غیرتی پہ آمادہ نہیں تھا مگر میرے حالات کچھ اور کہتے تھے یا شاید میں حالات کا سہی مقابلہ نا کر سکا اور اماں کو میں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آیا .
شروع شروع میں دو تین دن بعد میں چکر لگا لیتا تھا .کبھی کبھی اماں کو گھر بھی لے آتا تھا اور اگلے دن پھر چھوڑ آتا . پھر میرا چکر کم ہوتے گئے . بس اتوار کی اتوار جانے لگا اور پھر کچھ عرصہ پہلے تو حد ہو گئی . کاروبار کے چند مسائل کی وجہ سے میں قریبا ایک مہینہ نا جا سکا . اسی دوران وہ منحوس دن آ گیا ...
وہ اتوار کا دن تھا . مجھے آج ایک آدمی کے ساتھ ضروری کاروباری ملاقات کرنی تھی . ناشتہ کیا اور گاڑی میں آبیٹھا . ابھی سیلف لگایا ہی تھا کہ اٹھارہ سالہ ایان بھی دروازہ کھول کر ساتھ بیٹھ گیا .
" ٍڈیڈ آپ کو پتہ ہے میں گاڑی چلانا مکمل سیکھ گیا ہوں ."
" اچھا ! واہ شاباش میرا بیٹا بڑا ہوگیا ."
" ڈیڈ آپ ہمیشہ ہمیں اسکول چھوڑ کر آتے ہیں . آج میں آپ کو چھوڑ کر آؤں گا ."
میں نے ہنستے ہوئے ایان سے پوچھا ،
" اچھا ، کہاں چھوڑنے کا ارادہ ہے اپنے پاپا کو ؟"
" اولڈ ایج ہوم .... " اس نے کہا .
اور میں ساکت ہوگیا . میرے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اور ہاتھ سٹیرنگ پہ مضبوطی سے جم گئے . وہ اپنی دھن میں بولتا جا رہا تھا ,
" آج سنڈے ہے اور مجھے پتہ ہے کہ آپ گرینی سے ملنے جا رہے ہیں . میں بھی چلتا ہوں . ساتھ میں آپ کو ڈرائیونگ بھی دکھاتا ہوں اپنی ."
مگر میں بس ایان کے پہلے جملے پہ ہی ساکت ہو چکا تھا . اسکے معصوم جملے میں میرا مستقبل چھپا تھا . میری وہ فصل جو مجھے کاٹنی ہی تھی . بچپن میں پڑھی کہانیاں اور واقعات کی طرح مجھے بھی اسی سلوک کا شکار ہونا تھا . میری آنکھوں سے آنسو ابل ابل کر آ رہے تھے اور میں اپنی اماں سے اپنے اس گھٹیا سلوک سے سخت شرمندہ تھا .
ایان کو بلاوجہ ڈانٹ کر میں نے گاڑی سے نکالا اور تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا اماں کو لینے اولڈ ایج ہوم جانے لگا . اولڈ ایج ہوم پہنچا تو دوسری بجلی گری کہ کچھ دیر قبل ہی اماں ہارٹ اٹیک سے فوت ہو چکی تھیں اور میری معافی و توبہ کے سارے دروازے بند ہو گئے .
ڈاکٹر صاحب تب سے میں انتہائی چڑچڑا ہو چکا ہوں . کاروبار میں دل نہیں لگتا . بلاوجہ بچوں اور ملازموں کو ڈانٹتا رہتا ہوں . اکثر چھٹی والے دن سارا سارا دن قبرستان میں اماں کے سرہانے بیٹھ کر ان سے معافی مانگتا رہتا ہوں . نہ گھر میں دلچسپی رہی ، نہ کاروبار میں . اب بتائیں کیا اس بے سکونی , بے آرامی اور اس ضمیر کا کوئی علاج ہے جو جاگا بھی تو بے فیض ؟؟
کافی دیر تک میں چپ رہا لیکن ڈاکٹر کی آواز نہ آئی .
آنکھیں کھولیں , اٹھ کر ڈاکٹر کو دیکھا تو وہ سر نیچے کئے بیٹھا رو رہا تھا .
" ڈاکٹر صاحب ...." میں دوبارہ بولا تو اس نے سر اٹھایا اور آنکھیں صاف کرکے بولا ،
" اسکے علاوہ اس بے سکونی کا کوئی علاج نہیں کہ اللہ سے توبہ استغفار کرتے رہا کرو . نیک کام کرو تاکہ وہ تمہارے ماں باپ کے کام آئیں اور شاید تمہیں سکون مل جائے ."
یہ کہتے ہوئی اسکی ہچکیاں بندھ گئیں اور گلوگیر آواز میں پھر بولا ،
" میں نے ایک ضروری کام سے جانا ہے آپ چلے جائیں ." یہ کہتے ہوے اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ملازم کو بلا کر کلینک بند کرنے کا کہنے لگا .
" ارے ڈاکٹر صاحب اتنی ایمرجنسی میں آپ جا کہا رہے ہیں ؟" میں نے پوچھا تو اس نے مُڑ کر جواب دیا ،
" اولڈ ایج ہوم . . . بابا کو لینے ." یہ کہا اور گھوم کر راہداری میں غائب ہو گیا .
والدین کی عزت کریں ان سے محبت کریں ان کا ہمارا ساتھ صرف چند دنوں کا ہی ہوتا ہے کب کس وقت ہاتھ چھڑا کر وہ لوگ چلے جائیں کچھ پتہ نہیں پھر بعد میں صرف پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے اور ایک لفظ " کاش " رہ جاتی ہے ہماری زندگی میں
والدین کی قدر ہم یتیموں سے پوچھو

*سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کچھ مصری مزدور اور ایک انڈین شخص فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے*مصری باہم مل کر ہانڈی روٹی کرت...
08/12/2026

*سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کچھ مصری مزدور اور ایک انڈین شخص فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے*

مصری باہم مل کر ہانڈی روٹی کرتے،ساتھ پکاتے اور ساتھ کھاتے جب کہ انڈین الگ سے اپنا پکاتا اور کھاتا۔

ایک دن انڈین شخص چھٹی پر انڈیا گیا، ادھر مصریوں کو سالن میں ڈالنے والے مصالحہ جات کی ضرورت پڑی مصریوں نے انڈین شخص کے مصالحہ جات سے ہاتھ صاف کرنا بازار جانے کی نسبت آسان سمجھا۔

چند ماہ بعد انڈین واپس آیا،مصریوں سے ملا اور اپنے کمرے میں داخل ہوا،کچھ دیر بعد وہ گھبرایا ہوا بڑبڑاتے اپنے کمرے سے نکلا مصریوں نے پوچھا کیا ہوا؟ انڈین کہنے لگا "میرا ابا کمرے سے غائب ہے؟"

مصری حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بیک زبان پوچھا کہ تم تو کہتے تھے تیرا ابا کئی سال پہلے فوت ہوگیا ہے؟
انڈین کہنے لگا جی ابا تو کئی سال پہلے فوت ہوگئے تھے مگر
ہم نے اس کی ارتھی جلائی تھی اور ابا کے شریر کی راکھ سے تھوڑی سی میں ایک برتن میں اپنے ساتھ لے آیا تھا اور مصالحہ جات والے ڈبوں کے ساتھ رکھی تھی وہ راکھ غائب ہے۔
مصری پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے
"کیا ہم کالی مرچ سمجھ کر اس کا ابا چھڑک چھڑک کر چٹ گئے________😂😀؟

*جس قبر کو ناپنے کے لیے لیٹا تھا، اگلے دن اسی میں دفن ہوگیا…*ہمارے محلے میں ایک ایسا عجیب اور عبرت ناک واقعہ پیش آیا جس ...
08/09/2026

*جس قبر کو ناپنے کے لیے لیٹا تھا، اگلے دن اسی میں دفن ہوگیا…*

ہمارے محلے میں ایک ایسا عجیب اور عبرت ناک واقعہ پیش آیا جس نے دیکھنے اور سننے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ موت واقعی انسان سے صرف ایک لمحے کے فاصلے پر ہے۔

محلے میں ایک صاحب کا انتقال ہوگیا۔ تدفین کی تیاری شروع ہوئی اور قبرستان میں ان کے لیے قبر کھودی گئی۔

جب قبر تیار ہوگئی تو گورکن کو خیال آیا کہ قبر کی لمبائی اور چوڑائی درست ہے یا نہیں، اسے کسی ایسے شخص سے چیک کروا لیا جائے جس کا قد و قامت مرحوم کے قریب ہو۔

وہاں ایک ہٹا کٹا، صحت مند اور بالکل ٹھیک ٹھاک آدمی موجود تھا۔

گورکن نے اسے دیکھ کر کہا:

"بھائی! مرحوم تقریباً آپ ہی کے قد اور جسامت کے تھے۔ ذرا قبر میں لیٹ کر دیکھ لیں کہ جگہ مناسب ہے یا کہیں مزید کھودنے کی ضرورت تو نہیں۔"

اس شخص نے شاید اسے ایک معمولی سی بات سمجھا۔

وہ قبر میں اترا…

اور اسی جگہ لیٹ گیا جہاں کچھ دیر بعد ایک میت کو اتارا جانا تھا۔

چند لمحے قبر میں لیٹے رہنے کے بعد اس نے اندازہ کیا اور کہا:

"ہاں، قبر بالکل ٹھیک ہے۔"

وہ باہر نکل آیا۔

اس وقت وہاں موجود کسی انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ قدرت نے اگلے چند گھنٹوں میں کیا لکھ رکھا ہے۔

اسی دوران مرحوم کے آبائی گاؤں سے اطلاع آگئی کہ:

"میت کو یہاں لے آئیں، ہم تدفین گاؤں میں کرنا چاہتے ہیں۔"

چنانچہ جس شخص کے لیے وہ قبر تیار کی گئی تھی، اسے وہاں دفن نہیں کیا گیا۔ میت گاؤں لے جائی گئی اور وہ قبر خالی رہ گئی۔

معاملہ بظاہر ختم ہوگیا۔

لیکن اگلے ہی دن ایسی خبر آئی جس نے سب کو حیران کردیا۔

وہی صحت مند شخص، جو صرف قبر کا سائز جانچنے کے لیے اس میں لیٹا تھا، اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا۔

یہ موت قبر میں لیٹنے کے خوف کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔ بظاہر ایک طبعی سبب تھا، مگر قدرت کا فیصلہ ایسا تھا کہ جس قبر میں وہ کل محض چند لمحوں کے لیے یہ دیکھنے اترا تھا کہ قبر مناسب ہے یا نہیں…

اگلے دن اسی قبر میں اس کی اپنی میت اتاری گئی۔

سوچیے!

جب وہ شخص قبر کے اندر لیٹا ہوگا تو کیا ایک لمحے کے لیے بھی اس کے ذہن میں آیا ہوگا کہ:

"یہ قبر جسے میں کسی دوسرے انسان کے لیے ناپ رہا ہوں، کل میری اپنی آخری آرام گاہ بن جائے گی؟"

شاید نہیں!

اور یہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

ہم جنازوں میں شریک ہوتے ہیں، قبریں بنتی دیکھتے ہیں، دوسروں کو دفن کرتے ہیں اور پھر اپنے گھروں کو واپس آجاتے ہیں۔

ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موت ہمیشہ کسی دوسرے کے لیے آتی ہے۔

حالانکہ قرآنِ کریم کا اعلان ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

"ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔"
(آلِ عمران: 185)

🌷 قبر پر کسی انسان کا نام پہلے سے نہیں لکھا ہوتا۔

آج جس قبر کے پاس ہم کھڑے ہیں، کل ممکن ہے لوگ ہماری قبر کے پاس کھڑے ہوں۔

آج ہم کسی کا جنازہ اٹھا رہے ہیں، کل ہمارا جنازہ کسی اور کے کندھوں پر ہوسکتا ہے۔

انسان اگلے سال، اگلے مہینے بلکہ اگلے دن کا بھی یقین نہیں رکھتا۔

اس لیے موت کو یاد کرنا مایوسی نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو درست کرنے کی دعوت ہے۔

نماز باقی ہے تو اسے سنبھال لیجیے۔
کسی کا حق دینا ہے تو ادا کردیجیے۔
کسی سے معافی مانگنی ہے تو مانگ لیجیے۔
دل میں کسی کے لیے نفرت ہے تو اسے نکال دیجیے۔
اور اپنے رب سے تعلق کمزور ہوگیا ہے تو آج ہی واپس لوٹ آئیے۔

کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے پاس "کل" ہے بھی یا نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان والی زندگی، سچی توبہ اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔

08/05/2026

Wow diko madeena agia # #

*دکھاوے کی نیکی اور حقیقی کردار*ایک شخص جب اپنے گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے کہا:"ہمارے غسل خانے کے قریب جو درخت کھڑا ہ...
08/03/2026

*دکھاوے کی نیکی اور حقیقی کردار*

ایک شخص جب اپنے گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے کہا:

"ہمارے غسل خانے کے قریب جو درخت کھڑا ہے، اسے کٹوا دیجیے۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ نہاتے وقت اس پر بیٹھے پرندے مجھے دیکھیں۔"

شوہر نے یہ بات سنی تو اس کے دل میں بیوی کی بڑی عزت پیدا ہوئی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کی بیوی نہایت باحیا، پاکیزہ اور دیندار خاتون ہے۔ چنانچہ اس نے فوراً وہ درخت کٹوا دیا۔

وقت گزرتا گیا...

ایک دن وہ شخص اچانک کسی کام سے وقت سے پہلے گھر واپس آیا۔ مگر جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، اس کی دنیا اندھیر ہو گئی۔

اس نے اپنی بیوی کو ایک غیر مرد کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھا۔

یہ منظر اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کا دل ٹوٹ گیا، اعتماد بکھر گیا، اور وہ خاموشی سے اپنا گھر، اپنا شہر سب کچھ چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔

بغداد پہنچ کر اس نے نئی زندگی کا آغاز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے کاروبار میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک کامیاب، خوشحال اور معزز تاجر بن گیا، یہاں تک کہ شہر کے بااثر لوگوں میں اس کا شمار ہونے لگا۔

کچھ عرصے بعد بغداد کے کوتوال کے گھر چوری ہو گئی۔ بہت تلاش کے باوجود چور کا کوئی سراغ نہ ملا۔

انہی دنوں کوتوال کے ہاں ایک بزرگ شیخ کا آنا جانا تھا، جن کی لوگ بڑی عزت کرتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ چلتے وقت پورا قدم زمین پر نہیں رکھتے تاکہ کہیں کسی چیونٹی یا کیڑے مکوڑے کو نقصان نہ پہنچ جائے۔

ایک دن اس تاجر نے کوتوال سے کہا:

"اگر آپ مجھے امان دیں تو ایک بات عرض کروں؟"

کوتوال نے اجازت دی۔

اس نے کہا:

"میرا خیال ہے کہ آپ کے گھر کی چوری اسی شیخ نے کی ہے۔"

تحقیق ہوئی تو سب حیران رہ گئے۔ چوری شدہ سامان واقعی اسی شیخ کے پاس سے برآمد ہو گیا۔

کوتوال نے حیرت سے پوچھا:

"ہمیں تو کبھی ان پر شک بھی نہ ہوا، مگر تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟"

تاجر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:

"مجھے ایک درخت نے یہ سبق سکھا دیا تھا... جو لوگ حد سے زیادہ نیک نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں بھی اتنے ہی نیک ہوں۔"

🌿 سبق:

انسان کی اصل پہچان اس کے کردار، اس کے معاملات، اس کے اخلاق اور اس کے گھر کے ماحول سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف ظاہری نیکی کے اظہار سے۔

دکھاوے کی پارسائی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی، لیکن سچا کردار ہر آزمائش میں اپنی گواہی خود دیتا ہے۔
ہیں۔

*عبدالستار ایدھی مرحوم سے ایک بار کسی نے پوچھا*آپ نے ہزاروں لاوارث لاشیں دفنائیں کبھی کسی لاش کی بگڑی حالت یا اس پر تشدد...
08/01/2026

*عبدالستار ایدھی مرحوم سے ایک بار کسی نے پوچھا*

آپ نے ہزاروں لاوارث لاشیں دفنائیں کبھی کسی لاش کی بگڑی حالت یا اس پر تشدد دیکھ کر رونا آیا؟

انھوں نےآنکھیں بند کرکے گہری سوچ میں غوطہ زن ہوتے ہوئے کہا
تشدد یا لاش کی بگڑی حالت تو نہیں البتہ ایک مرتبہ میرے رضاکار ایک صاف ستھری لاش لے کر آئے جو تازہ انتقال کئے بوڑھے مگر کسی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانے کی لگ رہی تھی. اس کےسفید چاندی جیسے بالوں میں تیل لگا ہوا تھا. اور سلیقے سے کنگھی کی ہوئی تھی. دھوبی کے دھلے ہوئے سفید اجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقار لگ رہی تھی.
مگر تھی وہ اب صرف ایک لاش،
ایدھی صاحب پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئے.
ہمارے پاس روزانہ سینکڑوں لاشیں بھی لائی جاتی ہیں. دس بیس بھی. مگر ایسی لاش جو اپنے نقش چھوڑ جائے. کم ہی آتی ہیں اس لاش کو میں غور سے دیکھ رہا تھا. کہ میرے رضاکار نے بم پھوڑ دیا. اس نے کراچی کی ایک پوش بستی کا نام لے کر کہا. کہ یہ لاش اس کے بنگلے کے باہر پڑی تھی.
ہم جونہی بنگلے کے سامنے پہنچے تو ایک ٹیکسی میں سوار فیملی جو ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی اس میں سے ایک نوجوان برآمد ہوا اور جلدی سے ایک لفافہ ہمیں تھماتے ہوئے بولا۔ یہ تدفین کے اخراجات ہیں۔ پھر وہ خود ہی بڑ بڑایا۔ یہ میرے والد ہیں۔ انکا خیال رکھنا اچھی طرح غسل دے کر تدفین کر دینا۔
اتنے میں ٹیکسی سے آواز آئی۔ تمھاری تقریر میں فلائٹ نکل جائے گی جانو پلیز۔
یہ سنتے ہی نوجواں پلٹا اور مزید کوئی بات کئے ٹیکسی میں سوار ہوگیا اور ٹیکسی فراٹے بھرتی ہوئی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔
ایدھی صاحب بولے "اس لاش کے متعلق جان کر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں ایک بار پھر اس بدقسمت شخص کی جانب دیکھنے لگا تو مجھے ایسے لگا جیسے وہ بازو وا کئے مجھے درخواست کر رہا ہو کہ ایدھی صاحب ساری لاوارث لاشوں کے وارث آپ ہوتے ہیں مجھ بدقسمت کے وارث بھی آپ بن جائیں میں نےفوراً فیصلہ کیا کہ اس لاش کو غسل بھی میں دونگا اور تدفین بھی خود کرونگا پھر جونہی غسل دینے لگا تو اس اجلے جسم کو دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ جو شخص اپنی زندگی میں اس قدر معتبر اور حساس ہوگا۔ اس نے اپنی اولاد کی پرورش میں کیا ناز و نعم نہ اٹھائے ہونگے۔ مگر بیٹے کے پاس تدفین کا وقت بھی نہ تھا۔ اسے باپ کو قبر میں اتارنے سے زیادہ فلائٹ نکل جانے کی فکر تھی۔ اور یوں اس لاش کو غسل دیتے ہوئے میرے آنسو چھلک پڑے"۔ پھر وہ اپنے کندھے پر رکھے کپڑے سے آنسو پونچھتے ہوئے بولے
*اس دن ایدھی انسانیت کی ڈوبتی نیٌا پر رو پڑے.*

*انتہائی کمال کا نبوی نسخہ*اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَیہ صرف 1...
07/23/2026

*انتہائی کمال کا نبوی نسخہ*

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

یہ صرف 12 الفاظ کی دعا ہے، مگر اس میں ساری دنیا اور آخرت کی بھلائی سمو دی گئی ہے۔ ایک ایک لفظ کو کھول کر دیکھیے:

1. اللَّهُمَّ
- یا اللہ! خاص اللہ کے نام سے شروع، جو سارے ناموں کا سرِ چشمہ ہے۔ اس ایک لفظ میں کامل توحید ہے۔

2. اكْفِنِي
- مجھے کافی کر دیں، بے‌نیاز کر دیں، محفوظ رکھیں، میری حاجت روائی کر دیں۔
- "اکفنی" میں تینوں طرح کی کفایت مانگی گئی:
1. کفایتِ رزق (مال کی)
2. کفایتِ نفس (دل کی)
3. کفایتِ عقل (سوچ کی)

3. بِحَلَالِكَ
- آپ کے حلال سے، یعنی وہ رزق جو آپ کی طرف سے پاک ہو، برکت والا ہو، طیب ہو،،آپ کے حکم کے مطابق ہو۔
- یہاں بندہ یہ کہہ رہا ہے: "اے اللہ! میرا رزق آپ کے ہاتھ سے ہو، مخلوق کے ہاتھ سے نہیں۔"
4. عَنْ حَرَامِكَ
- آپ کے حرام کردہ امور سے بے‌نیاز کر دیں۔
- یہاں صرف "حرام نہ کھانے" کی دعا نہیں، بلکہ تین اعلیٰ درجے مانگے گئے:
1. حرام کی مجبوری نہ ہو
2. حرام کی طرف رغبت نہ ہو
3. حرام کی طرف نظر بھی نہ جائے

یہی وجہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"یہ دعا پڑھنے والا حرام سے اس طرح بچ جاتا ہے جیسے شیر سے بھاگتا ہے۔"

5. وَأَغْنِنِي
- اور مجھے غنیٰ کر دیں، بے‌نیاز کر دیں۔
- غنا دو طرح کا ہوتا ہے:
- غنای مال (دولت)
- غنای نفس (دل کی بے‌نیازی)
اس دعا میں دوسرا غنا مانگا گیا، جو افضل ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ"
(بخاری، مسلم)

6. بِفَضْلِكَ
- آپ کے فضل سے، نہ کہ میری محنت سے، نہ میری عقل سے، نہ میرے کاروبار سے۔
- یہ لفظ بندے کی عاجزی کی انتہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے: "اے اللہ! میں کچھ بھی نہیں، سب آپ کا فضل ہے۔"
عَمَّنْ سِوَاكَ
- آپ کے سوا سب سے۔ یعنی: لوگوں سے مانگنے سے بچالیں
- قرض لینے سے بچا لیں
- چاپلوسی کرنے سے بچا لیں
- کسی کے احسان تلے دبنے سے بچا لیں
- دنیا کے کسی طاقتور کے آگے جھکنے سے بچالیں

یہ عزتِ نفس کی آخری حد ہے۔

بڑے علماء کی تشریحات

| عالم | ان کی تشریح کا خلاصہ |
|------|----------------------|
| امام غزالی (احیاء العلوم) | یہ دعا قناعت کا سب سے بڑا نسخہ ہے۔ جو اسے پڑھتا ہے، اس کا دل دنیا سے نکل جاتا ہے۔ |
| ابن القیم (عدة الصابرین) | یہ دعا توحیدِ ربوبیت، توحیدِ الوہیت اور توحیدِ اسماء و صفات کا نچوڑ ہے۔ |
| شیخ عبدالقادر جیلانی | جو اس دعا کو صبح و شام 7 بار پڑھے، اللہ اسے حلال سے مالا مال اور حرام سے پاک کر دیتا ہے۔ |
| مولانا اشرف علی تھانوی | یہ دعا پڑھنے سے رزق میں ایسی برکت ہوتی ہے کہ تھوڑا بہت بہت نظر آنے لگتا ہے۔ |
| شیخ البانی | اس دعا کی متعدد صحابہ سے صحت، اسے "متواتر معنوی" بنا دیتی ہے۔ |

نتیجہ – یہ دعا کیوں بہت افضل ہے؟
کیونکہ اس میں بندہ چار سب سے بڑی چیزوں سے نجات مانگ رہا ہے:
1. حرام کی مجبوری
2. حرام کی خواہش
3. مخلوق کی غلامی
4. دل کی تنگدستی

اور چار سب سے بڑی چیزیں طلب کر رہا ہے:
1. حلال کی برکت
2. دل کی قناعت
3. اللہ کا فضل
4. عزتِ نفس

*بیوی کے انتقال کے دن حامد صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی*تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔"حامد، ابھی...
07/23/2026

*بیوی کے انتقال کے دن حامد صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی*
تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔
"حامد، ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ دوسری شادی کر لو۔"
وہ ہر بار مسکرا دیتے، پھر اپنے
بارہ سالہ بیٹے عمار کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، "
اللہ نے مجھے اس کی صورت میں میری بیوی کی آخری امانت دے دی ہے۔ اب میری باقی زندگی اسی امانت کی حفاظت ہے۔"

اس کے بعد انہوں نے واقعی اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی۔ کاروبار بڑھتا گیا، مگر ان کی دنیا سمٹ کر صرف ایک لڑکے کی مسکراہٹ رہ گئی۔ اپنی خواہشیں، اپنی تنہائیاں، اپنی راتیں... سب انہوں نے خاموشی سے دفن کر دیں۔

وقت نے پلٹا کھایا۔

عمار جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور ایک دن باپ نے سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔

"اب تم سنبھالو۔ میں تھک گیا ہوں۔"

لیکن تھکن جسم کی نہیں تھی... رشتے کی تھی، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا رہے تھے۔

پھر عمار کی شادی ہو گئی۔

گھر میں نئی ہنسی آئی، نئے پردے لگے، فرنیچر بدلا، برتن بدلے، حتیٰ کہ باورچی خانے کی ترتیب بھی بدل گئی۔

اور حامد صاحب؟

وہ بھی بدل گئے۔

اب وہ کبھی دفتر میں بیٹھے رہتے، کبھی کسی پرانے دوست کی دکان پر چائے پیتے، اور شام ڈھلے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے۔ اپنے ہی گھر میں وہ ایسے چلتے جیسے کسی اور کے مکان میں مہمان ہوں۔

ایک دوپہر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے تھے۔

حامد صاحب نے روٹی کا آخری نوالہ توڑتے ہوئے نرمی سے کہا،

"بیٹا... اگر ذرا سا دہی ہو تو دے دو۔"

باورچی خانے سے بہو کی آواز آئی،

"آج گھر میں دہی نہیں ہے، ابا جی۔"

"اچھا..." انہوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور خاموشی سے اٹھ گئے۔

کسی نے ان کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔

وہ حسبِ معمول واک کے لیے نکل گئے۔

ان کے جاتے ہی بہو نے فریج کھولا، ٹھنڈی دہی کی پیالی نکالی اور عمار کے سامنے رکھ دی۔

"گرمی بہت ہے، دہی کے بغیر تمہارا کھانا مکمل نہیں ہوتا۔"

عمار نے پیالی کی طرف دیکھا۔

پھر دروازے کی طرف، جہاں سے ابھی ابھی اس کے باپ کی آہستہ آہستہ دور ہوتی چپلوں کی آواز گم ہوئی تھی۔

اس نے ایک لمحے کو بیوی کی آنکھوں میں دیکھا۔

پھر خاموشی سے دہی کھا لی۔

اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔

کوئی نصیحت نہیں کی۔

صرف اس دن کے بعد اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

چند روز گزرے۔

ایک صبح اس نے والد سے کہا،

"ابا، آج دس بجے تیار رہیے گا۔ ہمیں کچہری جانا ہے۔"

"کیوں؟"

"آپ کی شادی ہے۔"

حامد صاحب کے ہاتھ سے اخبار پھسل گیا۔

"پاگل ہو گئے ہو؟ اس عمر میں؟ مجھے کسی شادی کی ضرورت نہیں۔ میں نے تو ساری زندگی تمہارے لیے گزاری ہے۔"

عمار نے پہلی بار باپ کی آنکھوں میں ویسے دیکھا جیسے ایک مرد دوسرے مرد کی قربانی کو پہچانتا ہے۔

"ابا... میں آپ کے لیے ماں نہیں لا رہا، نہ اپنی بیوی کے لیے ساس۔"

وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا،

"میں صرف آپ کے لیے ایک پیالی دہی کا بندوبست کر رہا ہوں۔"

کمرے میں ایسی خاموشی اتری کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی شرمندہ محسوس ہونے لگی۔

عمار نے جیب سے گھر کی چابی نکالی اور میز پر رکھ دی۔

"آج شام میں اور میری بیوی کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو جائیں گے۔ کل سے میں آپ کے دفتر میں صرف ایک ملازم کی حیثیت سے آؤں گا، تنخواہ لوں گا... تاکہ جس گھر کی ہر چیز آپ نے ہمیں دے دی، وہاں رہنے والوں کو ایک پیالی دہی کی قیمت سمجھ آ جائے۔"

باورچی خانے میں کھڑی بہو کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔

ٹوٹنے کی آواز معمولی تھی، مگر اس کے اندر برسوں سے جمی ہوئی خود غرضی میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔

وہ لرزتے قدموں سے باہر آئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ فریج سے دہی کی وہی پیالی نکالی، جسے چند لمحے پہلے اس نے صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھا تھا، اور خاموشی سے حامد صاحب کے سامنے رکھ دی۔

پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

"ابا جی... مجھے معاف کر دیجیے۔ آج سمجھ آئی ہے کہ میں نے آپ سے دہی نہیں، آپ کا حق چھینا تھا۔"

حامد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایسی نمی تھی جو صرف بڑھاپے کی تنہائی جانتی ہے۔

انہوں نے دھیرے سے کہا،

"بیٹی... بھوک روٹی نہ ملنے سے نہیں لگتی... بھوک اس دن لگتی ہے جب اپنے ہی گھر میں انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔"

عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔

اس روز نہ کوئی عدالت گئی، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بکھرا۔

صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔

اور اس دن کے بعد اس گھر میں دہی کبھی ختم نہیں ہوئی...

کیونکہ بہو نے فریج میں دہی رکھنے سے پہلے اپنے دل میں احترام رکھنا سیکھ لیا تھا۔

رشتے روٹی سے نہیں نبھتے، عزت سے نبھتے ہیں؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازہ چھوڑ جاتی ہے۔

*بچے ماں باپ کو چھوڑ کر دوسرے ملک جا رہے ہیں، شوہر بیوی کو چھوڑ کر دوسرے شہر جا رہا ہے، بیوی روزگار کے لیے شوہر سے دور ج...
07/10/2026

*بچے ماں باپ کو چھوڑ کر دوسرے ملک جا رہے ہیں، شوہر بیوی کو چھوڑ کر دوسرے شہر جا رہا ہے، بیوی روزگار کے لیے شوہر سے دور جا رہی ہے، بھائی بھائی سے جدا ہو رہا ہے…*

کیوں کمانا چاہتے ہیں ہم وہ دولت جو ہمیں اُن سے دور کر دے جن کے ساتھ جینے میں ہماری خوشی ہے؟
یہ ترقی رشتے توڑ چکی ہے، خاندان بکھر چکے ہیں۔

آخر میں بچتا کیا ہے؟
بس تھوڑی سی آزادی،
کچھ بیمے کی رقم،
ایک پلاٹ یا بینک میں تھوڑی سی جمع پونجی۔

اور کھویا کیا؟
وہ لوگ، جن کے ساتھ جینا تھا۔

سب سے بڑی محرومی یہ کہ بیماری میں کوئی اپنوں کا سہارا نہیں ہوتا
اور موت پر اپنوں کا کندھا بھی نصیب نہیں ہوتا۔

اس لیے…
کماؤ ضرور، مگر جیو اُن کے ساتھ جن کے ساتھ جینا ہے@@@@@@@

*اصل نعمتیں کون سی ہیں؟*ایک نوجوان نے ایک بزرگ سے سوال کیا:"ہم سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں...
07/09/2026

*اصل نعمتیں کون سی ہیں؟*

ایک نوجوان نے ایک بزرگ سے سوال کیا:

"ہم سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں واپس لے لیتا ہے، لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ بہت سے گناہگار لوگوں کے پاس بھی اچھا گھر، عمدہ لباس، بہترین کھانا اور ہر طرح کی آسائش موجود ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے کیا چھینا؟"

بزرگ مسکرائے اور نہایت شفقت سے پوچھا:

"بیٹا! کیا تم نماز میں خشوع و خضوع محسوس کرتے ہو؟"

نوجوان نے جواب دیا:
"نہیں۔"

بزرگ نے پھر پوچھا:
"کیا قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے وقت تمہارا دل سکون اور لذت محسوس کرتا ہے؟"

نوجوان بولا:
"نہیں۔"

انہوں نے دوبارہ پوچھا:
"کیا تم پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہو؟"

نوجوان نے کہا:
"نہیں۔"

بزرگ نے فرمایا:
"کیا نیکی کی طرف تمہارا دل خود بخود مائل ہوتا ہے؟"

نوجوان نے جواب دیا:
"نہیں۔"

پھر پوچھا:
"کیا تمہاری زبان اللہ کے ذکر کی عادی ہے؟"

نوجوان خاموشی سے بولا:
"نہیں۔"

یہ سن کر بزرگ نے فرمایا:

"بیٹا! یہی تو وہ عظیم نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ بعض نافرمان بندوں سے واپس لے لیتا ہے۔" 🤍

ہم میں سے بہت سے لوگ صرف مال، دولت، گھر، گاڑی اور دنیاوی آسائشوں کو ہی اللہ کی نعمت سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نماز کی لذت، قرآن سے محبت، ذکرِ الٰہی کا شوق، نیکی کی رغبت اور اللہ کے قریب ہونے کی تڑپ... یہی وہ سب سے قیمتی نعمتیں ہیں جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتیں۔

اس لیے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادت کی توفیق، گناہوں پر ندامت اور اپنی یاد میں سکون عطا کیا ہے تو یقین جانیں، آپ دنیا کے خوش نصیب ترین لوگوں میں سے ہیں۔

Address

New York, NY
07302

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kosar Irfan Short posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kosar Irfan Short:

Shortcuts

Featured

Share